بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ربیع الثانی 1443ھ 29 نومبر 2021 ء

دارالافتاء

 

ایامِ بیض اور پیر و جمعرات کے روزے کا حکم


سوال

ایامِ بیض کے روزوں اور  اس کے علاوہ  سوموار (پیر) اور جمعرات کے روزوں کی اہمیت کیا ہے؟ دونوں میں سے کن روزوں کی زیادہ فضیلت ہے؟

جواب

ایام بیض اور پیر جمعرات کے روزوں میں سے ہر ایک کی اپنی اپنی فضیلت ہے:

1-  ایامِ بیض  (قمری مہینہ کی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ) کے روزے  مستحب ہیں،  ان کا رکھنا فضیلت کا باعث ہے، اور نہ رکھنے میں گناہ نہیں ہے، اگر کسی شخص کا مستقل یہ روزے رکھنے کا معمول ہے تو یہ انتہائی سعادت کی بات ہے، البتہ اگر کبھی اس سے یہ روزے رہ جائیں تو قضا یا گناہ نہیں ہوگا،  نیز قمری مہینے کے کسی بھی حصے (اول، درمیان، آخر یا متفرق) میں تین روزے رکھ لینے سے حدیث شریف کے مطابق یہ فضیلت حاصل ہوجاتی ہے کہ جس شخص کا معمول ( رمضان المبارک کےعلاوہ) ہر مہینے  تین روزے  رکھنے کا ہو  تو  گویا اس نے ساری زندگی روزے رکھے۔

سنن الترمذي ت بشار (2/ 126):

"عن موسى بن طلحة، قال: سمعت أبا ذر يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا أبا ذر! إذا صمت من الشهر ثلاثة أيام فصم ثلاث عشرة، وأربع عشرة، وخمس عشرة. حديث أبي ذر حديث حسن.

وقد روي في بعض الحديث: أن من صام ثلاثة أيام من كل شهر كان كمن صام الدهر. عن أبي ذر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من صام من كل شهر ثلاثة أيام فذلك صيام الدهر، فأنزل الله عز و جل تصديق ذلك في كتابه: {من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها} اليوم بعشرة أيام. هذا حديث حسن".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 375):

"والمندوب كأيام البيض من كل شهر".

2-  پیر اور جمعرات کا روزہ سنت سے ثابت ہے، اور حکم کے اعتبار سے مستحب ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پیر اور جمعرات کے روزے رکھتے تھے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پیر اور جمعرات کے دن انسانوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں، میں پسند کرتا ہوں کہ روزہ کی حالت میں میرے اعمال پیش کیے جائیں۔

سنن الترمذي ت بشار (2/ 114):

"عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: تعرض الأعمال يوم الاثنين والخميس، فأحب أن يعرض عملي وأنا صائم. حديث أبي هريرة في هذا الباب حديث حسن غريب.

"حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبَانٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ مَوْلَى قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ ، عَنْ مَوْلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ انْطَلَقَ مَعَ أُسَامَةَ إِلَى وَادِي الْقُرَى فِي طَلَبِ مَالٍ لَهُ، فَكَانَ يَصُومُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَقَالَ لَهُ مَوْلَاهُ : لِمَ تَصُومُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ وَأَنْتَ شَيْخٌ كَبِيرٌ ؟ فَقَالَ : إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَ يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَ سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: " إِنَّ أَعْمَالَ الْعِبَادِ تُعْرَضُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَ يَوْمَ الْخَمِيسِ."

 (سنن أبي داود ،  كِتَاب  الصَّوْمُ ، بَابٌ  فِي صَوْمِ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ ،  رقم الحديث : ٢٤٣٦)

البتہ اگر ایامِ بیض  کی کوئی تاریخ پیر یا جمعرات کے دن آجائے، یا کوئی شخص مہینے کے تین مستحب روزے پیر یا جمعرات  میں رکھے تو اس میں دو فضیلتیں جمع ہوجائیں گی۔ فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144210200055

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں