بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 محرم 1446ھ 21 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

ایام بیض کے روزوں کی فضیلت


سوال

اگر ایام بیض کے 14،15 ، 16 کا روزہ رکھ لیں۔تو اس کی کیا فضیلت ہے؟

جواب

ہر ماہ ایام بیض کے روزہ رکھنا  مستحب ہے،  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا حکم فرماتے تھے، اور ان روزوں کو  پورا سال روزہ رکھنے کے مثل قرار دیتے تھے۔

ملحوظ رہے کہ ایام بیض کا اطلاق قمری مہینوں کی 13، 14 اور 15 تاریخوں پر  ہوتا ہے، سائل نے جو تاریخیں لکھیں ہیں، ان پر أيام بيض کا اطلاق  نہیں ہوتا۔

سنن أبی داود میں ہے:

٢٤٤٩ -" حدثنا محمد بن كثير، حدثنا همام، عن أنس، أخي محمد، عن ابن ملحان القيسي، عن أبيه، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأمرنا أن نصوم البيض ثلاث عشرة، وأربع عشرة، وخمس عشرة، قال: وقال «هن كهيئة الدهر»."

( كتاب الصوم، باب: في صوم الثلاث من كل شهر، ٢ / ٣٢٨، المكتبة العصرية، صيدا - بيروت)

ترجمہ:" حضرت قتادہ بن ملحان قیسی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ایام بیض یعنی تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں تاریخوں میں روزے رکھنے کا حکم فرماتے تھے، اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : " یہ پورے سال روزے رکھنے  کے مثل ہے"۔

 

بذل المجهود فی حل سنن أبی داود میں ہے:

" (قال: كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يأمرنا) أي أمر استحباب (أن نصوم البيض) أي أيام الليالي البيض (ثلاث عشرة، وأربع عشرة، وخمس عشرة).

قال الشوكاني: فيه دليل على استحباب صوم أيام البيض، وهي الثلاثة المعينة في الحديث، وقد وقع الاتفاق بين العلماء على أنه يستحب أن تكون الثلاثة المذكورة في وسط الشهر، كما حكاه النووي، واختلفوا في تعيينها، فذهب الجمهور إلى أنها ثالث عشر، ورابع عشر، وخامس عشر، وقيل: هي الثاني عشر، والثالث عشر، والرابع عشر، وحديث أبي ذر وغيره يرد ذلك.

(قال) أي ابن ملحان: (وقال) أي رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: (هن) أي صوم أيام البيض (كهيئة الدهر) أي تساوي صوم الدهر في الأجر على قاعدة: الحسنة بعشر أمثالها".

( كتاب الصيام، باب: في صوم الثلاث من كل شهر، ٨ / ٦٦٩، ط: مركز الشيخ أبي الحسن الندوي للبحوث والدراسات الإسلامية، الهند)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144310100379

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں