بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

ایک مجلس میں بغیر نیت کے تین بار


سوال

 ایک مجلس میں  اپنی بیوی کو   تین بار " طلاق ، طلاق ، طلاق " بول  دی جائے جب کہ ان  الفاظ سے  طلاق کا   نہ ارادہ   تھا  اور  نہ  ہی نیت  تھی ،تو کیا  طلاق واقع ہوجاتی  ہو جاتی ہے یا نہیں  جب کہ  بیوی کو پانچ مہینے کا حمل بھی ہو؟ اس کے بعد  دونوں فیملی راضی ہو جائیں تو کیا ہم رجوع کر سکتے ہیں یا نہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر بیوی حرمتِ مغلظہ کے ساتھ  اس پر حرام ہوگئی، اب نہ رجوع ہوسکتاہے اور نہ  ہی تجدیدِ نکاح کی گنجائش ہے، عدت  ( یعنی بچہ کی پیداہونے) کے بعد مطلقہ دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے، البتہ عدت گزرنے کے بعد  یہ عورت اگر کسی دوسری جگہ نکاح کرے اور اس دوسرے شوہر  سے صحبت( جسمانی  تعلق) ہوجائے،   اس کے بعد وہ  دوسراشوہر اسے طلاق دیدے یا بیوی  طلاق لے لے یا  اس کا انتقال ہوجائے تو اس کی عدت   گزارکر  اپنے پہلے شوہر کے ساتھ  دوبارہ نکاح ہوسکتاہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ(البقرة:230)"

ترجمہ:"پھر اگراس کو(تیسری)طلاق دے دے  تواس کے بعد وہ اس کیلئے حلال نہ رہے گی یہاں تک کہ وہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے۔"

 احکام القرآن للجصاص میں اس آیت کے  بعد مذکور ہے:

 "فحكم الله بتحريمها عليه في الثالثة بعد الاثنين ولم يفرق بين إيقاعهما في طهر واحد أو في أطهار فوجب الحكم بإيقاع الجميع على أي وجه أوقعه من مسنون أو مباح أو محظور."

 ترجمہ:"پس اللہ تعالی   نے دو طلاقوں کے بعد تیسری طلاق سے  عورت کو اس کے شوہر پر حرام قرار دیا اور کسی ایک طہر یا کئی طہروں میں طلاق واقع کرنےکے مابین  فرق نہیں کیا پس تینوں طلاقوں کے وقوع کا حکم لازمی ہوا چاہے طلاق مسنون طریقے سے دی گئی ہو یا مباح طریقے سے یا  ممنوع طریقے  سے۔"

(احکام القرآن للجصاص ج1/ص386) 

 فتاویٰ ہندیہ  میں ہے:

"وإن كان الطلاق ثلاثًا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجًا غيره نكاحًا صحيحًا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية."

(كتاب الطلاق،فصل في ماتحل به المطلقة،1/473،ط رشيدية)

قرآنِ مجید میں ارشادِ ربانی ہے:

 " وَاُولاَتُ الْاَحْمَالِ اَجَلَهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ."(سورۃ الطلاق، آیت 4)

"ترجمہ:اور حاملہ عورتوں کی عدت  اس  حمل کا پیداہوجانا ہے۔(از بیان القرآن)"

فتاوی عالمگیریہ میں ہے :

"وعدة الحامل أن تضع حملها كذا في الكافي. سواء كانت حاملا وقت وجوب العدة أو حبلت بعد الوجوب كذا في فتاوى قاضي خان."

(كتاب الطلاق ، الباب الثالث عشر في العدة، ج:1 ، ص:528 ، ط:دارالفكر)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144507101341

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں