بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو القعدة 1445ھ 18 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

ایب نارمل بچے کو کیا کرے؟


سوال

ایب نارمل بچے کو کیاکریں؟

جواب

واضح رہے کہ دنیا میں انسانوں کے علاوہ دیگر مخلوقات   اپنے بچوں کے لیے ان میں شفقت کاخوب مادہ ہوتا ہے ، اور اپنے بچوں کے لیے جان دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے ،اسی طرح اولاد اللہ کی نعمت ہےشریعت میں انسانوں کے لیے جس طرح صحیح و سالم بچہ کا تحفظ ضروری ہے، اسی طرح  ایب نارمل بچے کا تحفظ، دیکھ بھال، نگہداشت، کفالت و پرورش، تعلیم اور تربیت بھی ضروری ہے ،ایب نارمل بچہ کے ساتھ بھی اسی طرح محبت و شفقت کا سلوک ہونا چاہیے، جس طرح صحیح و سالم بچوں کے ساتھ ہوتا ہے،اس سے زیادہ  ایب نارمل بچے کو شفقت دی جائے ،اس لیے کہ معذور بچہ " مصیبت زدہ اشخاص" میں شامل ہے، اور مصیبت کے مارے افراد کے دکھ درد میں کام آنا، ان کی خدمت کرنا، ان کی پریشانی کو دور کرنا اور ان کی بے چینی کو دور کرنا بڑے ہی اجر و ثواب کا کام ہے، ایک حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللّٰہ  وسلم نے ارشاد فرمایا: جو دنیا میں مصیبت زدہ شخص کی پریشانی کو دور کرے گا، اللہ تعالیٰ آخرت میں اس کی پریشانی اور بے چینی کو دور فرمائے گا ، لہذا ایب نارمل بچے کو بوجھ نہ سمجھا جائے بلکہ خدمت کو   ثواب سمجھتے ہوئے  آخرت میں  نجات کا ذریعہ  سمجھیں ۔

مسند احمد  میں ہے :

"عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ‌من ‌وسع ‌على مكروب كربة في الدنيا، وسع الله عليه كربة في الآخرة."

(13/ 130 ط: مؤسسة الرسالة )

بخاری شریف میں ہے :

"أن عائشة رضي الله عنها، زوج النبي صلى الله عليه وسلم، قالت:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (‌ما ‌من ‌مصيبة تصيب المسلم إلا كفر الله بها عنه، حتى الشوكة يشاكها."

 ترجمہ:رسول اکرم صلی اللّٰہ وسلم کا ارشاد ہے : مسلمان کو جو بھی مصیبت لاحق ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے گناہ معاف کردیتا ہے، یہاں تک کہ جو کانٹا بھی چبھتا ہے، وہ اس کے گناہ کاکفارہ ہو جاتا ہے ۔

( باب ماجاءفي كفارة المرضی، 5/ 2137،دارابن كثير)

 ایک حدیث میں رسول کریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کمزوراورمعذورلوگوں کو امت کی نصرت اوررزق کاسبب بتایاہے کہ جب انسان ان پر رحم اورشفقت کرتاہےاورجوکچھ اللہ تعالی نے انہیں دیاہے اس میں سے ان پر خرچ کرتاہے تواس کی وجہ سے اسےدشمنوں پر مددملتی ہےاوریہ بات رزق  ملنے کاسبب ہوتی ہے۔

بخارشریف میں ہے:

"رأى سعد رضي الله عنه ‌أن ‌له ‌فضلا ‌على من دونه، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (هَلْ تنصرون وترزقون إلا بضعفائكم."

(  باب: من استعان بالضعفاء والصالحين في الحرب، 3/ 1061 ،دارابن کثیر)

اورترمذی شریف میں ہے:

"عن ‌أبي الدرداء قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «‌ابغوني ضعفاءكم، فإنما ترزقون وتنصرون بضعفائكم."

( باب ما جاء في الاستفتاح بصعاليك المسلمين،3/ 320،دارالغرب الاسلامی)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144403100927

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں