بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

مخصوص تاریخ میں اجتماع منعقد کرکے آیت کریمہ پڑھنا


سوال

ہمارے علاقے میں ہر سال ختم یونس (آیت کریمہ کا ختم)تاریخ متعین کرکے، پتھر کے ذریعے مسجد میں ہئیت اجتماعیہ کے ساتھ بڑے دھوم دھام کے ساتھ منایا کرتے ہیں، اور اس موقع پر ختم کے لیے علاقے کے ہر گھر سے پیسے جمع کرتے ہیں، اس ختم کو کچھ لوگ عبادت اور ضروری سمجھتے ہیں اور کچھ لوگ بلا و مصیبت دور ہونے کا ذریعہ سمجھتے ہیں، اس طرح ہئیت اجتماعیہ کے ساتھ دن، تاریخ متعین کر کے، پیسے جمع کرکے مسجد میں ختم یونس پڑھنے کا حکم کیا ہے؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں آیت کریمہ   دیگر دعاؤں کی طرح ایک دعاہے،یہ آیت مصائب  سے نجات کے لیے انتہائی مجرب ہے ، نبی کریم ﷺسے منقول ہے کہ اس کے ذریعے دعا قبول ہوتی ہے ، البتہ شریعت مطہرہ نے اس کے پڑھنے کی کوئی حد ، خاص دن ، خاص جگہ یا خاص ہیئت مقرر نہیں کی ہے ، اس لیے مذکورہ علاقے میں لوگوں کا سال میں ایک تاریخ متعین کرکے ،علاقے کے گھروں سے پیسے جمع کرکے خاص ہئیت کے ساتھ اس کا ورد کرنا اور اس کولازم سمجھنا درست نہیں ہے ، اس عمل سے اجتناب کیا جائے ۔ 

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

"عن سعيد بن المسيب قال:سمعت سعد بن أبي وقاص يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «اسم الله الذي إذا دعي به أجاب، وإذا سئل به أعطى دعوة يونس بن متى» قال قلت يا رسول الله. هي ليونس خاصة أم لجماعة المسلمين؟ قال: «هي ليونس بن متى خاصة، ولجماعة المؤمنين عامة، إذا دعوا بها، ألم تسمع قول الله عز وجل فنادى في الظلمات أن لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين فاستجبنا له ونجيناه من الغم وكذلك ننجي المؤمنين فهو شرط من الله لمن دعاه به» ... عن كثير بن معبد قال: سألت الحسن فقلت: يا أبا سعيد اسم الله الأعظم الذي إذا دعي به أجاب وإذا سئل به أعطى؟ قال: ابن أخي أما تقرأ القرآن قول الله تعالى: وذا النون إذ ذهب مغاضبا- إلى قوله- وكذلك ننجي المؤمنين ابن أخي، هذا اسم الله الأعظم الذي إذا دعي به أجاب، وإذا سئل به أعطى."

[سورة الأنبياء،ج:5، ص:324، ط:دار الکتب العلمية]

الاعتصام للشاطبی میں ہے:

"ومنها: (ای من البدع)  التزام العبادات المعينة في أوقات معينة لم يوجد لها ذلك التعيين في الشريعة، كالتزام صيام يوم النصف من شعبان وقيام ليلته".

(الاعتصام للشاطبي (ص: 53) الباب الأول تعريف البدع وبيان معناها وما اشتق منه لفظا، ط: دار ابن عفان، السعودية)

مرقاة المفاتیح  میں ہے:

"قال الطيبي: وفيه أن من أصر على أمر مندوب، وجعله عزما، ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال ، فكيف من أصر على بدعة أو منكر؟."

(3/31،  کتاب الصلاة،  الفصل الأول، ط: رشیدیة) 

خیر الفتاوی میں ہے:

"سوا لاکھ مرتبہ آیت کریمہ کا ورد کرنا شرعی حکم نہیں ہے کہ مصیبت کے وقت  ایسا کرنا ضروری ہے، بلکہ دعا ء کرنے کا ایک طریقہ  ہے، جیسے دوسرے طریقوں سے دعاء کرنا جائز ومشروع ہے ، ایسے ہی آیت کریمہ پڑھ کر دعاء کرنا بھی مشروع ہے۔"

(ذکر واوراد، دعاء اور تعویذات، ج:1،ص:342، ط: مکتبہ امدادیہ)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144408102667

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں