بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

ایام حج میں نماز قصر پڑھیں گے یا اتمام؟


سوال

ایام حج میں نماز قصر پڑھیں گے یا اتمام ؟رہ نمائی فرمائیں۔

جواب

اگر منیٰ کے لیے روانگی سے پہلے مکہ مکرمہ میں کسی حاجی کا قیام  مسلسل پندرہ دن یا اس سے زیادہ بن رہا ہو تو وہ  مکہ مکرمہ، منی، مزدلفہ اور عرفات میں بھی مقیم شمار ہوگا اور نماز میں اِتمام کرے گا، اور اگر صاحب حیثیت ہو تو قربانی بھی واجب ہوگی۔

 اور اگر منیٰ روانگی تک مکہ مکرمہ میں اس کا قیام پندرہ دن نہ بنتا ہو تو وہ مکہ مکرمہ میں بھی مسافر ہوگا اور منیٰ، مزدلفہ اور عرفات میں بھی مسافر ہوگا، کیوں کہ منی،عرفات مزدلفہ حدودِمکّہ سے خارج ہیں،  اس لیے یہ مستقل مواضع شمار ہوں گے، ان سب میں اقامت کے دنوں کو جمع نہیں کیا جائے گا۔ مسافر ہونے کی صورت میں اگر امامت کرواتاہے یا تنہا نماز پڑھتاہے تو چار رکعات والی فرض نماز میں قصر کرے گا۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"أو نوى فيه لكن (بموضعين مستقلين كمكة ومنى) فلو دخل الحاج مكة أيام العشر لم تصح نيته لأنه يخرج إلى منى وعرفة فصار كنية الإقامة في غير موضعها وبعد عوده من منى تصح الخ

(قوله فلو دخل إلخ) هو ضد مسألة دخول الحاج الشام فإنه يصير مقيما حكما وإن لم ينو الإقامة وهذا مسافر حكما وإن نوى الإقامة لعدم انقضاء سفره ما دام عازما على الخروج قبل خمسة عشر يوما أفاده الرحمتي."

(کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ المسافر، ج: ۲، صفحہ: ۱۲۶، ط: ایچ، ایم، سعید)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وذكر في كتاب المناسك أن الحاج إذا دخل مكة في أيام العشر ونوى الإقامة خمسة عشر يوما أو دخل قبل أيام العشر لكن بقي إلى يوم التروية أقل من خمسة عشر يوما ونوى الإقامة لا يصح؛ لأنه لا بد له من الخروج إلى عرفات فلا تتحقق نية إقامته خمسة عشر يوما فلا يصح."

(کتاب الصلاۃ، فصل بیان ما یصیر المسافر به مقیما، ج: ۱، صفحہ: ۹۸، ط: دار الکتب العلمیة)

فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144511101295

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں