بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

اوقاتِ مکروہ میں دعا اور ذکرو اذکار کا حکم


سوال

 معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا مکروہ اوقات میں دعا مانگنا بھی مکروہ ہے ؟مسئلہ معلوم کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ ایک ساتھی نے مجھے اس بات پر تنبیہ کی جب انہیں معلوم ہوا کہ میں بعد عصر مناجاتِ الہی میں مشغول تھا کہ مکروہ وقت میں دعا کیوں کرتے ہیں؟ 

جواب

واضح رہے  کہ اوقاتِ مکروہ میں  نماز پڑھنے سے احادیثِ مبارکہ میں منع کیا گیا ہے،لیکن  دعااور ذکر و اذکار سے ان اوقات  میں کوئی ممانعت نہیں ہے،بلکہ احادیث میں ان اوقاتِ مکروہ میں سے نمازِفجر  کےبعد طلوع آفتاب تک اور عصر کے نماز کے بعد غروب آفتاب تک کے وقت کو عبادت یعنی ذکر واذکار اور دعاؤں  میں گزارنےکی ترغیب اور فضیلت آئی ہے۔

مسند أحمد میں ہے:

"حدثنا عفان، حدثنا حماد بن سلمة، أخبرنا علي بن زيد  عن أبي طالب الضبعي، عن أبي أمامة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " لأن أقعد أذكر الله، وأكبره وأحمده وأسبحه وأهلله حتى تطلع الشمس، أحب إلي من أن أعتق رقبتين أو أكثر من ولد إسماعيل، ‌ومن ‌بعد ‌العصر حتى تغرب الشمس، أحب إلي من أن أعتق أربع رقاب من ولد إسماعيل ." 

 (تتمة مسند الأنصار، حديث أبي أمامة الباهلي الصدي بن عجلان بن عمرو ويقال: ابن وهب الباهلي، عن النبي صلى الله عليه وسلم، ج:36 ص:532 ط: مؤسسةالرسالة)

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله: ومنع عن الصلاة وسجدة التلاوة وصلاة الجنازة عند الطلوع والاستواء والغروب إلا عصر يومه) لما روى الجماعة إلا البخاري من حديث عقبة بن عامر الجهني رضي الله عنه قال «‌ثلاث ‌ساعات كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهانا أن نصلي فيهن وأن نقبر فيهن موتانا حين تطلع الشمس بازغة حتى ترتفع وحين يقوم قائم الظهيرة حتى تميل وحين تضيف للغروب حتى تغرب»."

(كتاب الصلاة، الأوقات المنهي عن الصلاة فيها، ج:1 ص: 262 ط: دار الکتاب الإسلامی)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144501101386

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں