بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 ذو الحجة 1441ھ- 12 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

ایک بھائی کا دوسرے کو اپنی اولاد دینا


سوال

ایک بھائی دوسرے بھائی کو اپنی اولاد دے سکتا ہے ؟جب کہ اس بھائی کی اپنی اولاد نہیں  ہے اور اس میں ماں کی رضامندی کتنی ضروری ہے؟

جواب

اگر کسی شخص کی اولاد نہ ہواور وہ کسی دوسرے شخص سے کوئی بچہ گود لیتا ہے تو یہ شرعی طور پر جائز ہے۔ جو شخص بچے کو گود لے رہا ہے وہ اس  غرض سے  اس بچے کو اپنے پاس رکھے کہ میں اس کی تربیت  وپروش کروں گا، اور اسے بیٹے کی طرح رکھوں گا، اوراس کے اخراجات ومصارف  اٹھاؤں گا،تو یہ باعث ثواب ہے ۔

جو بھائی اپنی اولاد دوسرے بھائی کو دے رہا ہے ،اس میں بچے کی ماں کی اجازت کا ہونا بھی ضروری ہے، اس لیے شرعی اعتبار سے پرورش کا اول حق ماں کو ہی حاصل ہے، البتہ جب وہ بچہ  کسی کو گود دینے پرراضی ہوتو یہ حق کسی اور کی جانب منتقل ہوجائے گا۔ 

یہ واضح رہے کہ اس طرح کا بچہ لے پالک کہلاتا ہے اورلے پالک بچے کو اس کے حقیقی والد کی طرف منسوب کرنا ضروری ہے، اس کی ولدیت میں گود لینے والے کا نام درج کرانا حرام اور ناجائز ہے، ہاں گود لینے والا شخص بطورِ سرپرست اس بچے کو اپنا نام دے سکتا ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ   بھائی نے جس بچے کو گود لیا ہے اس بچے کو  اس کی عمر  دوسال مکمل ہونے سے پہلے اگر بھائی کی بیوی یعنی بچے کی چچی نے   اپنا یا اپنی بہن کا دودھ پلایا ہو تو وہ بچہ ان کےلیے محرم شمار ہوگا۔ اور اگر دودھ نہیں پلایا  تو صرف گود لینے سے  مذکورہ بچہ اپنی  چچی  کے لیے محرم نہیں بنے گا، دیگر غیر محارم کی طرح ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109200430

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں