بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ذو الحجة 1442ھ 04 اگست 2021 ء

دارالافتاء

 

عورتوں کا جوڑا باندھ کر نمازادا کرنے کا حکم


سوال

عورت کا جوڑا لگاکر نماز اداکرنا کیسا ہے؟ مدلل جواب مطلوب ہے!

جواب

واضح رہے کہ عورتوں کے جوڑا باندھنے میں مندرجہ ذیل تفصیل ہے:

۱) سر کے اوپر جوڑا باندھنا ناجائز اور گناہ  ہے، چاہے نماز میں ہو یا عام حالت میں ہو۔ احادیث میں  اس طرح عورتوں کے بال بنانے کو ناپسند کیا گیا ہے اور ایسی عورتوں کو اہلِ نار میں شمار کیا گیا ہے، البتہ اگر کوئی عورت اس طرح جوڑا باندھ کر نماز پڑھ لیتی ہے تو نماز ادا ہوجائے گی۔

۲) گدی پر جوڑا باندھنا عورتوں کے لیے جائز ہے اور اس طرح جوڑا باندھنے سے نماز میں بھی کسی قسم کی کراہت نہیں آتی، بلکہ یہ افضل ہے؛ کیوں کہ کھلے بالوں کے مقابلہ میں اس صورت  میں بالوں (جو کہ عورت کے ستر میں داخل ہیں) کا چھپانا زیادہ آسان ہے۔

نیز یہ بھی واضح رہے کہ نماز میں مردوں کے لیے جوڑا باندھنا مکروہ ہے، فقہی کتب اور احادیث میں یہ بات مردوں کے لیے ہی مذکور ہے۔

شرح النووي على مسلم میں ہے:

"حدثني زهير بن حرب، حدثنا جرير، عن سهيل، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «صنفان من أهل النار لم أرهما، قوم معهم سياط كأذناب البقر يضربون بها الناس، ونساء كاسيات عاريات مميلات مائلات، رءوسهن كأسنمة البخت المائلة، لا يدخلن الجنة، ولا يجدن ريحها، وإن ريحها ليوجد من مسيرة كذا وكذا."

وأما رؤوسهن كأسنمة البخت فمعناه يعظمن رؤوسهن بِالْخُمُرِ وَالْعَمَائِمِ وَغَيْرِهَا مِمَّا يُلَفُّ عَلَى الرَّأْسِ حَتَّى تُشْبِهُ أَسْنِمَةَ الْإِبِلِ الْبُخْتِ هَذَا هُوَ الْمَشْهُورُ فِي تَفْسِيرِهِ قَالَ الْمَازِرِيُّ وَيَجُوزُ أَنْ يَكُونَ مَعْنَاهُ يَطْمَحْنَ إِلَى الرِّجَالِ وَلَا يَغْضُضْنَ عنهم ولا ينكسن رؤوسهن وَاخْتَارَ الْقَاضِي أَنَّ الْمَائِلَاتِ تُمَشِّطْنَ الْمِشْطَةَ الْمَيْلَاءِ قَالَ وَهِيَ ضَفْرُ الْغَدَائِرِ وَشَدُّهَا إِلَى فَوْقُ وَجَمْعُهَا فِي وَسَطِ الرَّأْسِ فَتَصِيرُ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ قَالَ وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِالتَّشْبِيهِ بِأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ إِنَّمَا هُوَ لِارْتِفَاعِ الْغَدَائِرِ فَوْقَ رؤوسهن وَجَمْعُ عَقَائِصِهَا هُنَاكَ وَتُكْثِرُهَا بِمَا يُضَفِّرْنَهُ حَتَّى تَمِيلَ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنْ جَوَانِبِ الرَّأْسِ كَمَا يميل السنام قال بن دُرَيْدٍ يُقَالُ نَاقَةٌ مَيْلَاءُ إِذَا كَانَ سَنَامُهَا يَمِيلُ إِلَى أَحَدِ شِقَّيْهَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ."

(کتاب اللباس و زینہ، باب النساء الكاسيات العاريات المائلات المميلات،ج نمبر ۱۷ ص نمبر ۱۹۱،دار احیاء التراث)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وعقص شعره) للنهي عن كفه ولو بجمعه أو إدخال أطرافه في أصوله قبل الصلاة؛ أما فيها فيفسد.

(قوله: وعقص شعره إلخ) أي ضفره وفتله، والمراد به أن يجعله على هامته ويشده بصمغ، أو أن يلف ذوائبه حول رأسه كما يفعله النساء في بعض الأوقات، أو يجمع الشعر كله من قبل القفا ويشده بخيط أو خرقة كي لا يصيب الأرض إذا سجد؛ وجميع ذلك مكروه، ولما روى الطبراني «أنه عليه الصلاة والسلام نهى أن يصلي الرجل ورأسه معقوص»، وأخرج الستة عنه صلى الله عليه وسلم: «أمرت أن أسجد على سبعة أعضاء، وأن لا أكف شعرا ولا ثوبا» شرح المنية، ونقل في الحلية عن النووي أنها كراهة تنزيه، ثم قال: والأشبه بسياق الأحاديث أنها تحريم إلا إن ثبت على التنزيه إجماع فيتعين القول به."

(کتاب الصلاۃ،باب ما یفسد الصلاۃ و ما یکرہ فیہ، ج نمبر ۱ ص نمبر ۶۴۱،ایچ ایم سعید)

فقط اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144203200448

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں