بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شوال 1445ھ 21 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

عورتوں کا جینز پہننے حکم


سوال

عورتوں کی جینز کی پینٹ جو ڈھیلی ڈھالی ہو ، چست نہ ہو ،جس سے جسم نمایا نہیں ہو،کیا پہننا جائز ہے؟(گھر میں محرموں کے سامنے، لڑکی  شرعی پردہ کرتی ہے ،نا محرموں کے سامنے ڈھیلی پینٹ بھی نہیں پہنے گی۔)

جواب

ایسی  جینز  کی پینٹ جس سے ستر چھپ جاتا ہو اور ڈھیلی ڈھالی ہو جس سے جسم کے اعضاء کی ساخت ظاہر نہ ہوتی عورت کےلیے  محرم کے سامنے پہننا جائز ہونے کے باوجود غیر مناسب ہے؛ کیوں کہ جینز   فساق و فجار  کا لباس ہے ، اور  مسلمان کے لیے فساق فجار کے لباس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابیح  میں ہے:

٤٣٤٧ - وعنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "«من ‌تشبه بقوم فهو منهم»" رواه أحمد، وأبو داود.

٤٣٤٧ - (وعنه) : أي عن ابن عمر (قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (من ‌تشبه بقوم): أي من شبه نفسه بالكفار مثلا في اللباس وغيره، أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار. (فهو منهم): أي في الإثم والخير. قال الطيبي: هذا عام في الخلق والخلق والشعار، ولما كان الشعار أظهر في التشبه ذكر في هذا الباب. قلت: بل الشعار هو المراد بالتشبه لا غير، فإن الخلق الصوري لايتصور فيه التشبه، والخلق المعنوي لايقال فيه التشبه، بل هو التخلق."

(کتاب اللباس فصل ثانی ج نمبر ۷ ص نمبر ۲۷۸۲،دار الفکر) 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144205200154

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں