بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

عورت کی عدت کا وقت کیا ہے


سوال

ایک عورت جس کے شوہر کا انتقال مغرب کے بعد ہوا ہو،اس عورت کی عدت کیا اسی دن سے شروع ہوجائے گی یا اگلے دن سے شروع ہوگی۔؟

جواب

جس عورت کے شوہر کا انتقال چاند کی پہلی تاریخ کو ہوا  ہواس کی عدت چارماہ دس دن ہے، بشرطیکہ حاملہ نہ ہو، اگر حمل سے ہو تو اس کی عدت وضع حمل (یعنی بچے کی ولادت) ہے،اور اگر چاند کی پہلی تاریخ کے بعد انتقال ہوا ہو یعنی چاند کی دوسری تاریخ وغیرہ کو تو ایسی صورت میں بیوہ کی عدت ایک سو تیس دن ہوتی ہے،اور بیوہ کی عدت شوہر کے انتقال ہوتے ہی شروع ہو جاتی ہے۔

فتاوی  ہندیہ میں ہے:

"عدة الحرة في الوفاة أربعة أشهر وعشرة أيام سواء كانت مدخولاً بها أو لا ... حاضت في هذه المدة أو لم تحض ولم يظهر حبلها، كذا في فتح القدير. هذه العدة لاتجب إلا في نكاح صحيح، كذا في السراج الوهاج. المعتبر عشر ليال وعشرة أيام عند الجمهور، كذا في معراج الدراية".

(كتاب الطلاق، ج:1، ص:529، ط:رشيدية)

وفیہ ایضا:

"ابتداء العدة في الطلاق عقيب الطلاق، وفي الوفاة عقيب الوفاة، فإن لم تعلم بالطلاق أو الوفاة حتى مضت مدة العدة فقد انقضت عدتها، كذا في الهداية".

(كتاب الطلاق، ج:1، ص:532، ط:رشيدية)

فتاوی شامی میں ہے:

'' في المحيط: إذا اتفق عدة الطلاق والموت في غرة الشهر اعتبرت الشهور بالأهلة وإن نقصت عن العدد، وإن اتفق في وسط الشهر. فعند الإمام يعتبر بالأيام، فتعتد في الطلاق بتسعين يوماً، وفي الوفاة بمائة وثلاثين''.

(باب العدة، ص:509، ج:3، ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144402101022

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں