بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 جمادى الاخرى 1443ھ 29 جنوری 2022 ء

دارالافتاء

 

عورت کے گھر میں اعتکاف کا ثبوت


سوال

عورت کا گھر میں اعتکاف درست ہے یا نہیں؟  حدیث کی روشنی میں بتائیں!

جواب

فقہاءِ احناف  رحمہم اللہ کے نزدیک  عورتوں کے لیے گھر کی مسجد میں اعتکاف کرنا نہ صرف جائز  ہے بلکہ یہی بہتر ہے کہ گھروں کی مسجد میں اعتکاف کریں ، اور گھر کی مسجد سے مراد  وہ جگہ ہے جسے گھر میں نماز ، ذکر،  تلاوت اور دیگر عبادات کے لیے خاص اور متعین کرلیا گیا ہو، باقی اگر  عورت مسجدِ شرعی میں اعتکاف کرے  (جب کہ پردے اور دیگر شرعی احکامات کی مکمل رعایت ہو) تو اعتکاف تو ہوجائے گا، لیکن  یہ مکروہ  ہے۔

 موجودہ زمانہ فتنہ وفساد کا زمانہ ہے، مساجد میں مردوں سے اختلاط کا قوی اندیشہ ہے،  بےحیائی بھی عام ہے ؛ اس  لیے موجودہ زمانہ میں جس طرح مسجد میں عورتوں کا نماز کے لیے آنا مکروہ تحریمی ہے، اسی طرح مسجد میں اعتکاف کرنا بھی مکروہ تحریمی ہے۔

احناف رحمہم اللہ کا استدلال  یہ ہے کہ: اعتکاف ایسی عبادت ہے جو مسجد کے ساتھ خاص ہے ، اور عورتوں کے لیے گھر کی مسجد  بالکل اسی طرح ہے جس طرح مردوں کے لیے مسجد  کا  حکم  ہے، یہی وجہ ہے مسجد میں آپ  ﷺ  کی موجودگی میں جماعت کے ثواب کی فضیلت کے باوجود  عورتوں  کو گھر میں نماز پڑھنے کو پسند فرمایا گیا، اور ان کی گھر کی مسجد کو نماز میں مسجد جماعت کا درجہ دیا گیا ، اور ان کی نماز کو گھر کے اندر والے حصے میں پڑھنے کو افضل بتایا گیا :

  حضرت امّ حمید رضی اللہ عنہا نے بارگاہِ نبوی ﷺ میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ مجھے آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کا شوق ہے، آپ ﷺ نے فرمایا:تمہارا شوق (اور دینی جذبہ) بہت اچھا ہے، مگر تمہاری نماز اندرونی کوٹھی میں کمرے کی نماز سے بہتر ہے، اور کمرے  کی نماز گھر کے احاطے  کی نماز سے بہتر ہے، اور گھر کے احاطے  کی نماز  محلے  کی مسجد سے بہتر ہے، اور محلے  کی مسجد کی نماز میری مسجد (مسجدِ نبوی) کی نماز سے بہتر ہے۔ چناں چہ حضرت امّ حمید ساعدی رضی اللہ عنہا نے فرمائش کرکے اپنے کمرے (کوٹھے) کے آخری کونے میں جہاں سب سے زیادہ اندھیرا رہتا تھا مسجد (نماز پڑھنے کی جگہ) بنوائی، وہیں نماز پڑھا کرتی تھیں، یہاں تک کہ ان کا وصال ہوگیا اور اپنے خدا کے حضور حاضر ہوئیں"۔

(الترغیب و الترہیب:۱/۱۷۸)

لہذا جب گھر میں نماز کے لیے مختص کی گئی جگہ ان کے حق میں نماز کے باب میں مسجد کے حکم میں ہے تو اسی طرح اعتکاف کے باب میں بھی وہ مسجد  ہی کے حکم میں ہے، اس لیے نماز اور اعتکاف دونوں مسجد کے ساتھ خصوصیت رکھنے میں برابر ہیں۔

شمس الأئمہ السرخسی  (المتوفی : 483هـ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

   ایک حدیث میں  آتا ہے کہ آپ  ﷺ نے جب اعتکاف کا ارادہ کیا تو  آپ نے مسجد میں خیمہ لگانے کا حکم دیا ،تو آپ کے لیے مسجد میں خیمہ لگالیا گیا، پھر جب  آپ مسجد میں داخل ہوئے تو   وہاں اور بہت سے خیمہ دیکھے  تو پوچھا کہ یہ کن کے ہیں ؟ تو آپ ﷺ کو بتلایا گیا کہ یہ حضرت عائشہ ، حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ہیں تو آپ نے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا اور ارشاد فرمایا: کیا تم اس سے نیکی کا ارادہ کرتی ہو؟ (یہ روایت احادیث کی  بہت سی کتابوں میں اختصار وتفصیل کے ساتھ مذکور ہے، بعض روایت میں حضرت زینب رضی کا عنہ کا بھی ذکر آتا ہے، نیز آپ کے اس جملہ"  کیا تم اس سے نیکی کا ارادہ کرتی ہو؟" کے شراح نے مختلف مطالب بیان  کیے ہیں )  پھر آپ ﷺ نے سب خیمہ نکلوانے کا حکم دیا ، اور اس عشرہ میں اعتکاف نہیں کیا" ۔ تو جب آپ ﷺ نے ان کے لیے مسجد میں اعتکاف کو ناپسند کیا باوجود اس کے کہ اس زمانہ میں عورتیں جماعت کی نماز کے لیے مسجد آیا کرتی تھیں تو اس میں زمانہ میں بدرجہ اولیٰ انہیں منع کیا جائے گا۔

خصوصاً جب کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی موجودگی میں عورتوں کو مسجد میں آنے سے منع کیا گیا، اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خود فرمایا کہ آج حضور ﷺ ہوتے تو آپ خود عورتوں کو روک دیتے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کی مزاج شناس تھیں، وہ سمجھ رہی تھیں کہ حالات اور ماحول بدلنے کی وجہ سے آپ ﷺ بھی خواتین کے مسجد میں آنے کو پسند نہیں فرماتے۔

في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 113):

' وأما المرأة فذكر في الأصل: أنها لا تعتكف إلا في مسجد بيتها، ولا تعتكف في مسجد جماعة، وروى الحسن عن أبي حنيفة أن للمرأة أن تعتكف في مسجد الجماعة، وإن شاءت اعتكفت في مسجد بيتها، ومسجد بيتها أفضل لها من مسجد حيها، ومسجد حيها أفضل لها من المسجد الأعظم، وهذا لا يوجب اختلاف الروايات، بل يجوز اعتكافها في مسجد الجماعة على الروايتين جميعاً بلا خلاف بين أصحابنا، والمذكور في الأصل محمول على نفي الفضيلة لا على نفي الجواز توفيقاً بين الروايتين، وهذا عندنا.
وقال الشافعي: لا يجوز اعتكافها في مسجد بيتها، وجه قوله: أن الاعتكاف قربة خصت بالمساجد بالنص، ومسجد بيتها ليس بمسجد حقيقة، بل هو اسم للمكان المعد للصلاة في حقها، حتى لا يثبت له شيء من أحكام المسجد، فلا يجوز إقامة هذه القربة فيه۔ ونحن نقول: بل هذه قربة خصت بالمسجد، لكن مسجد بيتها له حكم المسجد في حقها في حق الاعتكاف ؛ لأن له حكم المسجد في حقها في حق الصلاة ؛ لحاجتها إلى إحراز فضيلة الجماعة، فأعطي له حكم مسجد الجماعة في حقها، حتى كانت صلاتها في بيتها أفضل على ما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: «صلاة المرأة في مسجد بيتها أفضل من صلاتها في مسجد دارها، وصلاتها في صحن دارها أفضل من صلاتها في مسجد حيها»، وإذا كان له حكم المسجد في حقها في حق الصلاة فكذلك في حق الاعتكاف؛ لأن كل واحد منهما في اختصاصه بالمسجد سواء، وليس لها أن تعتكف في بيتها في غير مسجد، وهو الموضع المعد للصلاة؛ لأنه ليس لغير ذلك الموضع من بيتها حكم المسجد، فلا يجوز اعتكافها فيه'.

في المبسوط للسرخسي (3/ 119):

' (قال): ولا تعتكف المرأة إلا في مسجد بيتها، وقال الشافعي - رحمه الله تعالى -: لا اعتكاف إلا في مسجد جماعة، الرجال والنساء فيه سواء، قال: لأن مسجد البيت ليس له حكم المسجد ؛ بدليل جواز بيعه، والنوم فيه للجنب والحائض، وهذا؛ لأن المقصود تعظيم البقعة، فيختص ببقعة معظمه شرعاً، وذلك لا يوجد في مساجد البيوت.
(ولنا) أن موضع أداء الاعتكاف في حقها الموضع الذي تكون صلاتها فيه أفضل، كما في حق الرجال، وصلاتها في مسجد بيتها أفضل فإن النبي صلى الله عليه وسلم لما «سئل عن أفضل صلاة المرأة؟ فقال: في أشد مكان من بيتها ظلمة»۔ وفي الحديث: أن «النبي صلى الله عليه وسلم لما أراد الاعتكاف أمر بقبة فضربت في المسجد، فلما دخل المسجد رأى قباباً مضروبة، فقال: لمن هذه؟ فقيل: لعائشة وحفصة، فغضب وقال: آلبر يردن بهن؟ وفي رواية: يردن بهذا، وأمر بقبته فنقضت، فلم يعتكف في ذلك العشر»۔ فإذا كره لهن الاعتكاف في المسجد مع أنهن كن يخرجن إلى الجماعة في ذلك الوقت؛ فلأن يمنعن في زماننا أولى، وقد روى الحسن عن أبي حنيفة رحمهما الله تعالى أنها إذا اعتكفت في مسجد الجماعة جاز ذلك، واعتكافها في مسجد بيتها أفضل، وهذا هو الصحيح؛ لأن مسجد الجماعة يدخله كل أحد، وهي طول النهار لا تقدر أن تكون مستترةً، ويخاف عليها الفتنة من الفسقة، فالمنع لهذا، وهو ليس لمعنى راجع إلى عين الاعتكاف، فلا يمنع جواز الاعتكاف، وإذا اعتكفت في مسجد بيتها، فتلك البقعة في حقها كمسجد الجماعة في حق الرجل، لا تخرج منها إلا لحاجة الإنسان، فإذا حاضت خرجت ولا يلزمها به الاستقبال إذا كان اعتكافها شهراً أو أكثر، ولكنها تصل قضاء أيام الحيض لحين طهرها، وقد بينا هذا في الصوم المتتابع في حقها. ومسجد بيتها الموضع الذي تصلي فيه الصلوات الخمس من بيتها'.

علامہ خطابی  رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ اس میں اس بات پر دلالت ہے کہ عورتوں کا گھروں میں اعتکاف کرنا جائز ہے۔البتہ مردوں کا گھروں میں اعتکاف درست نہ ہونے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔

في المنهل العذب المورود شرح سنن أبي داود (10/ 234):

' (قال) الخطابى: وفيه كالدلالة على أن اعتكاف المرأة فى بيتها جائز. وحكى عن أبى حنيفة، فأما الرجل فلم يختلفوا أن اعتكافه فى بيته غير جائز. وإنما شرع الاعتكاف في المساجد'۔

ملا علی قاری رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں کہ" آپ ﷺ کے بعد ان کی ازواج مطہرات اعتکاف کرتی تھیں " لکھتے ہیں:

" (ثم اعتكف أزواجه) ، أي في بيوتهن ؛ لما سبق من عدم رضائه لفعلهنّ "  یعنی وہ گھروں میں اعتکاف کرتی تھیں ؛  اس لیے پہلے (دوسری حدیث جو اوپر ذکر ہوئی اس میں) گزرچکا ہے کہ آپ ﷺ نےان کے مسجد میں اعتکاف کرنے کو پسند نہیں کیا تھا، یہی وجہ ہے کہ فقہاء نے عورتوں کےاپنے گھروں کی مسجدمیں اعتکاف کرنے کو مستحب لکھا ہے۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (4/ 1446)

' «كان صلى الله عليه وسلم يعتكف في كل رمضان، فإذا صلى الغدوة جاء إلى مكانه الذي اعتكف فيه، فاستأذنته عائشة - رضي الله عنها - أن تعتكف فأذن لها، فضربت فيه قبة، فسمعت بها حفصة، فضربت فيه قبة، فسمعت زينب، فضربت فيه قبة أخرى، فلما انصرف صلى الله عليه وسلم من الغدوة أبصر أربع قباب، فقال: " ما هذا؟ " فأخبر خبرهن، فقال: "ما حملهن على هذا؟ آلبر؟ انزعوها! "، فنزعت، فلم يعتكف في رمضان حتى اعتكف في أحد العشرين من شوال، وفي رواية: فأمر بخبائه فقوض، وترك الاعتكاف في شهر رمضان حتى اعتكف العشر الأول من شوال»، وتقدم اعتكافه في العشر الأواسط (ثم اعتكف أزواجه) ، أي في بيوتهن ؛ لما سبق من عدم رضائه لفعلهن، ولذا قال الفقهاء: يستحب للنساء أن يعتكفن في مكانهن (من بعده) ، أي من بعد موته إحياء لسنته، وإبقاء لطريقته'۔

"الأستاذ الدکتور  موسی شاهین لاشین"  اپنی کتاب فتح المنعم میں لکھتے ہیں :

 " آپ ﷺ کے بعد ان کی ازواج مطہرات اعتکاف کیا کرتیں " کے ظاہر سے یہ لگ رہا ہے کہ آپ ﷺ کی ازواج مطہرات آپ کی وفات کے بعد مسجد میں اعتکاف کرتی تھیں ، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں، بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ آپ کی وفات کے بعد  اپنے گھروں میں اعتکاف کرتی تھیں ، اور حدیث کے اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ اعتکاف منسوخ نہیں  ہوا، بلکہ آپ ﷺکے رحلت فرمانے کے بعد بھی جاری ہے۔

في فتح المنعم شرح صحيح مسلم (5/ 72):

' (ثم اعتكف أزواجه من بعده): ظاهره أن الأزواج اعتكفن في مسجده من بعد وفاته، وليس كذلك، بل المراد أنهنّ اعتكفن في بيوتهنّ بعد وفاته، فالمقصود به أن الاعتكاف لم ينسخ، ومشروعيته مستمرة.

علامہ محمود محمد خطاب السبکی اپنی کتاب" المنهل العذب "میں  حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مذکورہ اثر نقل فرمانے کے بعد تحریر فرماتے ہیں:

" وهذا في حق الرجل، أما المرأة فتعتكف في مسجد بيتها، ويكره اعتكافها في مسجد جماعة"  

یعنی یہ مردوں کے حق میں ہے، باقی جہاں تک عورتوں کی بات ہے وہ اپنے گھروں کی مسجد میں اعتکاف کریں گی، ان کا مسجد میں اعتکاف کرنا مکروہ ہے۔

في المنهل العذب المورود شرح سنن أبي داود (10/ 228):

' وفي عرف الشرع: المكث في مسجد جماعة "، وهو ما له إمام ومؤذن ولو لم تصل فيه الخمس"، مع النية، فاللبث ركن، والنية شرط. وكذا المسجد ؛ لحديث ابن عباس: إن أبغض الأمور إلى الله تعالى البدع، وإن من البدع الاعتكاف في المساجد التي في الدور. رواه البيهقي. وقال علي: لا اعتكاف إلا في مسجد جماعة. رواه عبد الرزاق وابن أبى شيبة. وهذا في حق الرجل. أما المرأة فتعتكف في مسجد بيتها. ويكره اعتكافها في مسجد جماعة'۔

علامہ محمود محمد خطاب السبکی اپنی کتاب "المنهل العذب "میں امام صاحب کا مذہب نقل کرنے کے بعد  مزید تحریر فرماتے ہیں کہ :

""کفایہ "" میں  ہے کہ  یہی صحیح ہے، اس لیے جماعت کی مسجد میں ہر ایک شخص آتا جاتا رہتا ہے ، اور عورت پورا دن اس پر قادر نہیں ہوسکے گی کہ وہ پردہ میں چھپی رہے، اور ہمہ وقت اس پر فاسق لوگوں سے خوف لاحق رہے گا۔

نیز مزید تحریر فرماتے ہیں :

' لكن إذا خيف عليها الفتنة امتنع اعتكافها في المسجد المباح للناس اتفاقاً'۔

اگر عورت  پر فتنہ کا خوف ہو تو اس کو مسجد میں اعتکاف کرنے سے بالاتفاق منع کیا جائے گا۔

في المنهل العذب المورود شرح سنن أبي داود (10/ 236):

' وهذا كله في حق الرجل, وأمّا المرأة، فقال مالك والشافعى وأحمد: لا تعتكف إلا في مسجد مباح لعموم الناس، وليس لها أن تعتكف في مسجد بيتها. وبه قال ابن حزم. وعن أبي حنيفة إن اعتكفت في مسجد الجماعة جاز، واعتكافها في مسجد بيتها أفضل. قال في الكفاية: وهو الصحيح؛ لأن مسجد الجماعة يدخل فيه كل أحد، وهي طول النهار لا تقدر أن تكون مستترةً، ويخاف عليها الفتنة من الفسقة اهـ لكن إذا خيف عليها الفتنة امتنع اعتكافها في المسجد المباح للناس اتفاقاً. ومسجد بيتها المكان المهيأ لصلاتها فيه'۔

اس سے معلوم ہوا کہ فتنہ کے خوف ہونے کی صورت میں بالاتفاق انہیں مسجد میں اعتکاف کرنے سے منع کیا جائے گا، اور موجودہ زمانہ میں فتنہ و فسادکا زور، بے حیائی کا غلبہ، مرد وزن کے اختلاط ،کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ  عورتوں کے اعتکاف کی جگہ ان کے گھر کی مسجد ہی ہے، اور اس میں انہیں مسجد جتنا ثواب ملے گا، اورموجودہ زمانہ میں ان کا مسجد میں اعتکاف کرنا مکروہ تحریمی ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوگیا کہ ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن نے آپ ﷺ کے بعد گھروں میں ہی اعتکاف کیاتھا۔

في فتح القدير للكمال ابن الهمام (2/ 394):

' (قوله: أما المرأة فتعتكف في مسجد بيتها) أي الأفضل ذلك، ولو اعتكفت في الجامع أو في مسجد حيها -وهو أفضل من الجامع في حقها- جاز، وهو مكروه، ذكر الكراهة قاضي خان'.

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209201660

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں