بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 صفر 1443ھ 17 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

ملتان میں رہنے والی شادی شدہ عورت کا ۱۸۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع میکہ (فضل پور) ۱۵ دن سے کم کے لیے جانے کی صورت میں قصر یا مکمل نماز پڑھنے کا حکم


سوال

میں ملتان میں رہتا ہوں،میری بیوی کا آبائی گھر فضل پور میں ہے جو کہ ملتان سے 180 کلومیٹر دور ہے، سوال یہ ہے کہ جب میری بیوی  15 دن سے کم کے  لیے اپنے آبائی گھر فضل پور جائے گی تو قصر نماز پڑھے گی یا پوری نماز پڑھے گی؟

جواب

اگر فضل پور ملتان سے  180 کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے تو  15 دن سے کم دن کے  لیے اپنے  والدین کے گھر فضل پور جانے کی صورت میں آپ کی بیوی وہاں مسافر ہوں گی اور  ان کو قصر نماز پڑھنی ہوگی۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 147):

"(قوله: ويبطل الوطن الأصلي بمثله لا السفر ووطن الإقامة بمثله والسفر والأصلي)؛ لأن الشيء يبطل بما هو مثله لا بما هو دونه فلايصلح مبطلاً له، وروي أن عثمان - رضي الله عنه- كان حاجاً يصلي بعرفات أربعاً فاتبعوه فاعتذر، وقال: إني تأهلت بمكة وقال النبي صلى الله عليه وسلم: «من تأهل ببلدة فهو منها» والوطن الأصلي هو وطن الإنسان في بلدته أو بلدة أخرى اتخذها دارا وتوطن بها مع أهله وولده، وليس من قصده الارتحال عنها بل التعيش بها وهذا الوطن يبطل بمثله لا غير، وهو أن يتوطن في بلدة أخرى وينقل الأهل إليها فيخرج الأول من أن يكون وطناً أصلياً حتى لو دخله مسافرا لايتم".

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:

"(و المعتبر نیة المتبوع)؛ لأنه الأصل (لا التابع کامرأۃ) ... الخ"

(باب صلاة المسافر، 2/133، ط: سعید کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144205200545

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں