بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

عورت کے لیے اعتکاف کی حالت میں چچا سے پردہ کا حکم


سوال

میرا واش روم اعتکاف والے کمرے سے باہر ہے،  وہاں اکثر میرے  چاچا بھی بیٹھے ہوتے ہیں  مجھے ان سے پردہ کرنا چاہیے؟ پردے کے  لیے چادر میں ہو کر جانا چاہیے یا سر پر دوپٹا لے کر؟

جواب

واضح رہے کہ عورت کے لیے اس کے چچا (والد کے بھائی) محرم ہیں، اور ان سے پردہ واجب نہیں ہے۔ البتہ حیا کا تقاضا یہ ہے کہ عورت اپنے محرم رشتہ داروں چچا وغیرہ کے سامنے بھی بغیر چادر یا دوپٹہ کے نہ آئے۔ لہٰذا آپ قضائے حاجت کے لیے بیت الخلا جاتے وقت چادر یا دوپٹہ میں سر اور جسم ڈھانک کر اپنے  چچا کے سامنے جاسکتی ہیں، چہرے چھپانے کی ضرورت نہیں ہے، اور  چلتے چلتے  (رکے بغیر) انہیں سلام اور ضروری بات چیت بھی کرسکتی ہیں، اس سے اعتکاف فاسد نہیں ہوگا۔ ویسے بھی سر ڈھانک کر بیت الخلا جانا اسلامی آداب میں سے ہے، عورتوں کو بھی اس کا خیال رکھنا چاہیے۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (ج:1، ص:256، ط:دار الكتاب الإسلامي):

’’ويدخل مستور الرأس ويقول عند دخوله: باسم الله اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبائث.‘‘

ترجمہ: ’’بیت الخلا میں سر ڈھانک کر داخل ہوں  اور داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھیں: بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ إنِّي أَعُوذُ بِك مِنْ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ۔‘‘

فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144209202025

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں