بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1441ھ- 04 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

اولاد کا مرحوم والدین کی وصیت پر عمل نہ کرنے کا حکم


سوال

والدین اپنی زندگی میں وصیت کردیتے ہیں اور کسی ایک دو بندوں کو بتا کر لکھوا کر چلے جاتے ہیں اور بعد میں ان کے بچے نہیں مانتے اس میں کیا حکم ہے؟

جواب

والدین نے اگر اپنے انتقال کے بعد اپنے مال کے بارے میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ورثاء پر ان کی وصیت کو پورا کرنا شرعاً لازم ہے،  بشرطیکہ وصیت اپنے مال کے ایک تہائی حصہ میں کی ہو  اور مال  کی وصیت کسی وارث کے لیے نہ ہو؛ کیوں کہ مرنے والے کو اپنے کل مال کے ایک تہائی حصے میں وصیت کرنے کا حق ہوتا ہے، ایک تہائی سے زیادہ مقدار کے بارے میں وصیت کرنے کی صورت میں ورثاء پر لازم نہیں ہوگا کہ وہ مکمل وصیت پر عمل کریں، بلکہ ایک تہائی تک لازم ہوگا اور ایک تہائی سے زائد مقدار کے حوالے سے کی گئی وصیت تمام ورثہ کی رضامندی پر موقوف ہوگی، اگر وہ قبول نہ کریں تو یہ زائد مقدار نافذ نہیں ہوگی، اسی طرح اگر مرحوم والدین نے ورثاء میں سے کسی وارث کے لیے وصیت کی ہو تو وہ وصیت بھی دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر معتبر نہیں ہوگی، بہرحال شرائط موجود ہونے کے باوجود اگر اولاد مرحوم والدین کی وصیت پر عمل نہیں کریں تو وہ گناہ گار ہوں اور آخرت میں سخت پکڑ ہوگی۔ قرآنِ کریم میں ہے:

{فَمَنْ بَدَّلَه بَعْدَ مَا سَمِعَه فَاِنَّمَاۤ اِثْمُه عَلَی الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَه ؕ اِنَّ اللّٰه سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ﴿۱۸۱﴾ فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَهُمْ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ﴿۱۸۲﴾}
ترجمہ: پھر جو شخص اس (وصیت) کے سن لینے کے بعد اس کو تبدیل کرے گا اس کا گناہ ان ہی لوگوں کو ہوگا جو اس کو تبدیل کریں گے اللہ  تعالیٰ تو یقینا سنتے جانتے ہیں۔ ہاں جس شخص کو وصیت کرنے والے کی جانب سے کسی بےعنوانی یا کسی جرم کے ارتکاب کی تحقیق کی ہوئی ہو، پھر یہ شخص ان میں باہم مصالحت کرادے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے ۔ واقعی اللہ  تعالیٰ تو (خود گناہوں کے) معاف فرمانے والے ہیں اور (گناہ گاروں پر) رحم کرنے والے ہیں ۔ (بیان القرآن) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200984

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں