بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 شعبان 1441ھ- 05 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

التحیات دوبارہ پڑھنے کا حکم


سوال

اگر التحیات میں غلطی نہ ہو،  لیکن وہم کی وجہ سے درود پڑھ  کے التحیات میں واپس آئے تو کیا سجدہ سہو ہو گا فرض نماز میں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص تنہا نماز پڑھتے ہوئے یا امامت کرتے ہوئے قعدہ اولیٰ میں دو مرتبہ تشہد پڑھ لیتا ہے تو  چوں کہ دوسری مرتبہ تشہد پڑھنے کی وجہ سے تیسری رکعت کے قیام میں (جو کہ فرض ہے اس میں) تاخیر ہوئی اس لیے اس پر نماز کے آخر میں سجدۂ  سہو ادا کرنا لازم ہو گا، اگر مقتدی قعدہ اولیٰ میں دو مرتبہ تشہد پڑھ لے، خواہ بھولے سے یا جان کر اس پر سجدۂ سہو لازم نہیں ہوگا، تاہم جان کر پڑھنا درست نہیں ہے۔

اور اگر  قعدۂ اخیرہ میں تشہد دو مرتبہ پڑھ  لیا (خواہ امام ہو یا منفرد یا مقتدی) تو اس پر سجدۂ  سہو لازم نہ ہو گا۔

اب صورتِ مسئولہ میں بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نماز پڑھنے والا قعدۂ اخیرہ میں ہے جیسا کہ درود شریف پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ اس کے اوپر سجدۂ  سہو لازم نہ ہو گا۔ 

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (1/ 505):
"إذا كرر التشهد في القعدة الأولى فعليه سجود السهو، وإن كررها في القعدة الثانية فلا".

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 105):
"لو كرر التشهد في القعدة الأولى فعليه السهو؛ لتأخير القيام، وكذا لو صلى على النبي صلى الله عليه وسلم فيها؛ لتأخيره، واختلفوا في قدره، والأصح وجوبه بـ "اللّهم صلّ على محمّد" وإن لم يقل: "وعلى آله"، وذكر في البدائع: أنه يجب عليه السجود عنده، وعندهما لايجب؛ لأنه لو وجب لوجب لجبر النقصان ولايعقل نقصان في الصلاة على رسول الله صلى الله عليه وسلم،  وأبو حنيفة -رحمه الله-، يقول: لايجب عليه بالصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم، بل بتأخير الفرض وهو القيام، إلا أن التأخير حصل بالصلاة فيجب عليه من حيث أنها تأخير، لا من حيث أنها صلاة على النبي صلى الله عليه وسلم اهـ.
وقد حكي في المناقب أن أبا حنيفة رأى النبي صلى الله عليه وسلم في المنام، فقال له: كيف أوجبت على من صلّى علي سجود السهو؟ فأجابه بكونه صلّى عليك ساهيًا، فاستحسنه منه، ولو كرّر التشهد في القعدة الأخيرة فلا سهو عليه". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107201211

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے