بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

اٹل پینشن یوجنا کا حکم


سوال

حکومت کی جانب سے ایک پینشن یوجنا چلائی جارہی ہے، جس کا نام اٹل پینشن یوجنا ہے، اس میں 18 سے 40 سال تک کی عمر کے لوگوں کوحصہ لینے کی اجازت ہے، 18 سال کی عمر کے لوگوں کو ان کی عمر ساٹھ سال ہونے تک200 یا 300 روپے مہینہ جمع کرنا ہوگا، اور چالیس سال تک کی عمر کے لوگوں کو ۱پنی عمر ساٹھ سال ہونے تک 1200روپے مہینہ جمع کرنے کا ،اس کے بعد جب تک یہ لوگ زندہ رہیں گے ان کو حکومت 5000 روپے مہینہ دےگی، ان کے مرنے کے بعد ان کی عورتوں کو بھی ان کے مرنے تک 5000روپے مہینہ دےگی ،ان کے مرنے کے بعد کسی کو بھی کچھ نہیں ملے گا، اگر مرد 200یا1200روپے جمع کرتے ہوئے مر جاتا ہے، اور ابھی اس کی عمر ساٹھ سال نہیں ہوئی تو اب اس کی عورت کو 200یا 1200 روپے مہینہ جمع کرنے ہوں گے تب اس کو زندگی بھر 5000 روپے مہینہ ملیں گے ، عورت کے مرنے کے بعد کسی کو کچھ نہیں ملے گا ، کیا ایسا کرنا حلال یا حرام ؟

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ معاملہ قمار (جوا)اور سود ہونے کی وجہ سےناجائز ہے،اس لیےکہ  60 سال کےعمرتک   جتنی رقم جمع کی جاتی خواہ 200 روپے ہو یا 1200روپے ،کسی ناجائز کاروبار ی معاہدہ کے تحت جمع نہیں کروائی جاتی ہے کہ اس میں جائز نفع ہو ،اور وہ ممبروں میں تقسیم ہو،دوم یہ کہ تجارتی منافع کا تعین قبل از عملی تجارت ممکن نہیں،جب کہ اس میں ممبروں کو ملنے والی رقم پہلے سے ماہانہ اعتبار سے متعین ہے،مزید یہ کہ مذکورہ رقم جمع کرنے والے کو  جمع کردہ رقم پوری پوری ملنا یقینی نہیں ،کیوں کہ موت کی صورت میں  رقم ملنی بند ہو جائے گی،اور موت کے وقت کا کسی کو پتہ نہیں،  اس طرح کے معاملہ کو شریعت میں قمار(جوا) کہا جاتا ہے۔

نیزمذکورہ صورت میں سودبھی لازم  آتاہے،کیوں کہ جو رقم جمع کی جائے، اور پھرممبر کی عمر60 سال ہوجانےکےبعد اس رقم کے عوض حکومت کی طرف سےماہانہ 5000 ہزارروپےہر  ممبر کو دی جاتی ہے،اس میں جمع کرنےوالے ممبرکی جمع شدہ رقم سےزیادہ رقم کی وصولی ممکن بلکہ ظنِ غالب ہے،بلکہ ممبران زیادہ ملنے کی امید پر ہی یہ فنڈ قائم کرتے ہے،لہذا شرعاًاس قسم کے معاملات میں شریک ہونا شرعاًناجائز  ہے۔

سنن نسائی  میں ہے:

"أخبرنا قتيبة بن سعيد قال: حدثنا خلف يعني ابن خليفة، عن عطاء بن السائب، عن الشعبي قال: ‌لعن ‌رسول ‌الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، وموكله، وكاتبه، وشاهديه، والمحلل، والمحلل له، والواشمة والموشومة، ونهى عن النوح، ولم يلعن صاحبه."

( كتاب الزينة، وذكر اختلاف عبيد الله بن مرة والشعبي على الحارث في هذا الحديث، ج:8 ص:340 ط: مؤسسةالرسالة)

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:

"حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة، عن عاصم، عن ابن سيرين، قال: «كل شيء فيه قمار ‌فهو ‌من ‌الميسر»."

( کتاب البیوع  والأقضیة، البيض الذي يقامر به، ج:4 ص:483 ط: مکتبة الرشد)

سنن إبن ماجہ میں ہے:

"عن عبد الله بن مسعود: أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - لعن آكل الربا وموكله وشاهديه وكاتبه."

 (کتاب التجارۃ، باب التغلیظ فی الربا، ج: 2 ص: 764 ط: دار الرسالة)

البنایۃ شرح الہدایۃ میں ہے:

''م: (ولأن فيه) ش: أي ولأن في كل واحد من هذه البيوع م: (تعليقا) ش: أي تعليق التمليك م: (بالخطر) ش: وفي " المغرب "، الخطر: الإشراف على الهلاك، قالت الشراح: وفيه معنى ‌القمار لأن التمليك لا يحتمل التعليق لإفضائه إلى معنى ‌القمار.''

(کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، البیع بالقاء الحجروالمنابذۃ والملامسہ، ج:8 ص:158 ط: دارالکتب العلمیة)

وأيضاً فیہ:

"قد نهى النبي - صلّى الله عليه وسلّم - عن بيع الملامسة والمنابذة، ولأن فيه تعليقا بالخطر.م: (ولأن فيه) ش: أي ولأن في كل واحد من هذه البيوع م: (تعليقا) ش: أي تعليق التمليك م: (بالخطر) ش: وفي " المغرب "، الخطر: الإشراف على الهلاك، قالت الشراح: وفيه معنى القمار لأن التمليك لا يحتمل التعليق لإفضائه إلى معنى القمار."

(کتاب البیوع، أركان البيع، البيع بإلقاء الحجر والمنابذة والملامسة، ج:8 ص:158 ط: دارالکتب العلمیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص."

(کتاب الحظر والإباحة، فصل فی البیع، ج:6 ص: 403 ط: سعید)

دار  الافتاء دارالعلوم دیوبند کے ویب سائٹ پر بھی ملاحظہ کریں:

اٹل پینشن یوجنا میں جمع کردہ رقم پر زکوة واجب ہوگی یا نہیں؟

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144501101592

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں