بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 شوال 1443ھ 21 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

اٹیچڈ باتھ روم میں وضو کرنا اور دعائیں نہ پڑھنا


سوال

اٹیچڈ باتھ روم میں وضو کرنا اور دعا نہ پڑھنے کے بارے میں کسی حدیث کا حوالہ دیں؟

جواب

مشترکہ غسل خانہ اوربیت الخلا  جس میں داخل ہونےکے لیے ایک ہی دروازہ ہوتاہے اور قضائے حاجت کی جگہ اور غسل کی جگہ کے درمیان کوئی دیوار یا آڑ نہیں ہوتی، اس قسم کے غسل خانوں میں وضو کے شروع اور درمیان کی  دعائیں زبان سے پڑھنا منع ہے؛ کیوں کہ درمیان میں آڑ نہ ہونے کی وجہ سے یہ بیت الخلا میں پڑھنا شمارہوگا، اوربیت الخلا میں اَذکار   پڑھنے سے  شریعت نے منع کیا ہے، ایسی جگہ دل ہی دل میں زبان کو حرکت دیے بغیر پڑھنے کی اجازت ہے۔ البتہ اگر  غسل خانہ اور بیت الخلا دونوں ایک دوسرے سے ممتاز ہیں، دونوں کے درمیان کوئی دیوار یا پردہ حائل ہے اور غسل خانے میں گندگی بھی نہیں ہے تو اس صورت میں وضو کی دعائیں زبان سے پڑھ سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ اٹیچڈ باتھ روم (جس میں بیت الخلا کی جگہ بھی ساتھ ہی ہو) میں بلاضرورت گفتگو کرنا بھی مکروہ ہے، لہٰذا اس سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔

سنن ابی داؤد میں ہے:

"عن هلال بن عیاض، قال: حدثني أبوسعید قال: سمعت رسول الله ﷺ یقول: لایخرج الرجلان یضربان الغائط، كاشفین عن عورتهما یتحدثان؛ فإنّ اللہ عزّ و جلّ یمقت علی ذلك."

(كتاب الطهارة، باب كراهية الكلام عند الخلاء، 1/14، ط: رحمانیه لاهور)

یعنی حضرت ابوسعید روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: نہیں نکلتے دو شخص قضاءِ حاجت کے لیے اس حال میں کہ وہ ستر کھولے ہوئے آپس میں باتیں کر رہے ہوں تو اللہ تعالیٰ ان پر غصہ ہوتے ہیں۔

وفیه أیضًا:

"عن ابن عمر قال: مر رجل على النبي ﷺ و هو یبول فسلّم علیه، فلم یردّ علیه. قال أبوداؤد: و روي عن ابن عمر و غیره: أنّ النبي ﷺ تیمّم، ثمّ ردّ علی الرجل السلام."

(كتاب الطهارة، باب في الرجل یرد السلام و هو یبول، 1/14، ط: رحمانیه لاهور)

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قضاءِ حاجت فرما رہے تھے کہ ایک شخص نے سلام کیا، آپ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تیمم کرکے اس کے سلام کا جواب دیا۔

الفتاوی الشامية، (1/ 156):

"ويستحب أن لا يتكلم بكلام مطلقاً، أما كلام الناس؛ فلكراهته حال الكشف، وأما الدعاء؛ فلأنه في مصب المستعمل ومحل الأقذار والأوحال"اهـ.

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144110200319

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں