بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 شعبان 1445ھ 01 مارچ 2024 ء

دارالافتاء

 

اسکالر شپ کی شرعی حیثیت


سوال

 میرا نام عبداللہ ہے، میں پشاور یونیورسٹی میں پی-ایچ-ڈی کا اسٹوڈنٹ ہوں،  حکومت پاکستان کی طرف سے ہر سال تقریباً 400 تک طلباء مختلف یونیورسٹیوں سے دنیا کی بہترین درسگاہوں میں اپنے بقایا ریسرچ کیلئے اسکالرشپ پر بھیجے جاتے ہی، اسکالرشپ میں منتخب ہونے کے لیے ہم اپنا بقایا ریسرچ کام اُن کے سامنے رکھتے ہیں، جس کام میں ہمارے لیے پاکستان میں ریسرچ کرنے میں دشواری ہوتی ہے، اس کی بنیاد پر ہم منتخب ہوتے ہیں ، منتخب ہونے کی بعد ایک پروگرام ہوتا ہے جس میں ایچ- ای- سی والے صاف کہتے ہیں کے آپ لوگ پڑھنے کے ساتھ ساتھ وہاں گھوم پھر بھی لیا کریں، تاکہ ثقافت کا تبادلہ بھی ہو، میں چونکہ اپنے کام کی بنیاد پر منتخب ہوا ہوں،  میرا کام یہاں پر مکمل نہیں ہوا،تقریبا 50 فیصد کام ہوا ہے، اس میں میری بھی کمزوری ہے اور یہاں پر کچھ سہولیات نہ ہونے کا بھی مسئلہ تھا،  واپس پاکستان جاکے میں ایچ- ای- سی والوں سے سچ سچ بولوں گا، اور اپنی رپورٹ جمع کراؤں گا، جتنا بھی میں نے کام کیا ہو،اکثر اسٹوڈنٹس رپورٹ جمع نہیں کراتے یا کراتے وقت جھوٹ بول لیتے ہیں، ہمیں یک مشت چھ 6 مہینوں کیلئے اسکالر شپ ملتا ہے، اسی میں یہ وقت گزارنا ہوتا ہے، اسٹوڈنٹس اپنا کام کرکے اور وقت گزار کے جتنی بھی ان پیسوں میں بچت کرتے ہیں تو ایچ- ای- سی والے پیسے واپس مانگتے نہیں کیونکہ ایچ-ای-سی والے اتنی تحقیق کرتے نہیں ہیں،   اکثر اسٹوڈنٹس یہاں آکے اپنا کام پورا کرکے نہیں جاتے، میرا سوال یہ ہے کہ سچی رپورٹ جمع کرانے کے بعد بھی اگر انہوں نے مجھ سے بقایا پیسے نہیں مانگے جو میں نے یہاں بچت کی ہے تو  کیا وہ پیسے میرے لیے حلال ہیں یا نہیں؟ اگرحلال نہیں اور ایچ -ای- سی والے بھی واپس نہ مانگے تو پھر ان پیسوں کا کیا کیا جائے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر ایچ-ای-سی والے اسکالر شپ کی سہولت اس شرط پر مہیا کرتے ہیں کہ واپسی پر بچی ہوئی رقم واپس جمع کرانی ہوگی تو ایسی صورت میں واپس آنے کے بعد بقایا رقم واپس جمع کرانا ضروری ہے، خود استعمال کرنا جائز نہیں ہے، اور اگر ایچ-ای-سی والے اسکالر شپ دیتے وقت یہ شرط نہیں رکھتے کہ بچی ہوئی رقم واپس کرنی ہے تو اس صورت میں بچی ہوئی رقم واپس کرنا لازم نہیں ہوگا، اور اس رقم کو ذاتی استعمال میں لانا جائز ہوگا۔

الموسوعہ الفقہیہ الکویتیہ میں ہے:

"وأما في الاصطلاح...فإن معنى التبرع عند الفقهاء...بذل المكلف مالا أو منفعة لغيره في الحال أو المآل بلا عوض بقصد البر والمعروف غالبا."

(مصطلح:تبرع، تعريف التبرع، ج:10، ص:65، ط:دار السلاسل)

فیہ ایضاً:

"التبرع إذا تم بشروطه الشرعية يترتب عليه أثر شرعي، وهو انتقال المتبرع به إلى المتبرع له."

(مصطلح:تبرع، آثار التبرع، ج:10، ص:65، ط:دار السلاسل)

تنقیح الفتاویٰ الحامدیہ میں ہے:

"‌المتبرع ‌لا يرجع بما تبرع به على غيره."

(كتاب المداينات، ج:2، ص:226، ط:دار المعرفة)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144402101350

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں