بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

عصر کی نماز مثل اول میں پڑھنے کا حکم


سوال

 اکثر ہمارے دفتر میں عصر کی نماز کےوقت پر بحث چلتی رہتی ہے کہ اگر فلاں مسلک کے مطابق مثل اول میں نماز پڑھ سکتےہیں، تو پھر ہم کیوں نہیں پڑھ سکتے؟یا ہماری نماز کیوں نہیں ہوتی؟

جواب

واضح رہے کہ ظہر کے آخری وقت اور عصر کے ابتدائی وقت میں مفتیٰ بہ  قول یہی ہے کہ  ظہر کا وقت اس وقت ختم ہوتا ہے جب سایہ اصلی کے علاوہ  ہر چیز کا سایہ دو مثل ہوجائے اور اس کے بعد عصر کاوقت داخل ہوتا ہے، لہٰذا مثلِ ثانی سے پہلے عصر کی نماز پڑھنا وقت سے پہلے نماز پڑھنا ہے، اس لیے اس وقت میں پڑھی گئی نماز درست نہیں ہوگی۔

صورتِ مسئولہ میں مثل ثانی سے پہلے نماز پڑھنا درست نہیں ہے اور یہی امام اعظم ؒ کا قول ہے اور اسی کو فقہاء کرام ؒ نے اختیار کرکے  مفتی بہ  قرار  دیاہے، اور  اس  بابت  میں  کئی احادیث  وارد  ہوئی  ہیں  جن  میں  سے  بعض  ذکر کیے  جائیں گے:

1:"عن ‌أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا اشتد» الحر فأبردوا عن الصلاة؛ فإن شدة الحر من ‌فيح ‌جهنم."

(سنن الترمذي،کتاب الصلاة، ج:1، ص:203،ط:دار الغرب الاسلامي)

ترجمہ:"جب گرمی کی شدت زیادہ ہو جائے تو نماز کو ٹھنڈی کر کے پڑھو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم گرمی کی تیزی جہنم کی بھاپ کی تیزی سے ہے"

 حجاز مقدس کی گرمی میں ٹھنڈک اور اِبراد مثلِ  اول پر نہیں ہوتا،  بلکہ  مثل ثانی (سایہ اصلی کے علاوہ  ہر چیز کا سایہ دو مثل ہوجائے)  پر ہی  ہوتاہے۔

2:"عن ‌أبي ذر الغفاري قال: «كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر، ‌فأراد ‌المؤذن ‌أن ‌يؤذن ‌للظهر، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أبرد. ثم أراد أن يؤذن، فقال له: أبرد. حتى رأينا فيء التلول، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إن شدة الحر من فيح جهنم، فإذا اشتد الحر فأبردوا بالصلاة.» وقال ابن عباس: تتفيأ تتميل."

(صحیح البخاري،کتاب الصلاة، ج:1، ص:113 ط:دار طوق النجاة)

ترجمہ: "حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سےمنقول ہے :"کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے مؤذن نے چاہا کہ ظہر کی اذان دے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:" وقت کو ٹھنڈا ہونے دو" مؤذن نے (تھوڑی دیر بعد) پھر چاہا کہ اذان دے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:" ٹھنڈا ہونے دو" جب ہم نے ٹیلے کا سایہ ڈھلا ہوا دیکھ لیا،پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:" گرمی کی تیزی جہنم کی بھاپ کی تیزی سے ہے، اس لیے جب گرمی سخت ہو جایا کرے تو ظہر کی نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو۔"

 عرب کے ٹیلے عموماً منبسط ہوتے ہیں، اس لیے ان کا سایہ بہت دیر میں ظاہر ہوتاہے اور ان کا سایہ ایک مثل اس وقت ہوتاہے جب کہ دوسری چیزوں کا سایہ ایک مثل سے کافی زائد ہوچکاہو۔

3:"عن عبد الله بن رافع مولى أم سلمة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم. أنه سأل أبا هريرة عن وقت الصلاة.؟ فقال أبو هريرة: أنا أخبرك «صل الظهر إذا كان ظلك مثلك والعصر ‌إذا ‌كان ‌ظلك ‌مثليك."

(الموطا للإمام مالك، باب وقوت الصلا، ج:1، ص:8، ط:دارإحياء التراث العربي)

ترجمہ:" حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ:"ظہر اس وقت پڑھو، جب تیرا سایہ تیرے مثل ہو، اور عصر اس وقت پڑھو جب تیرا  سایہ دو مثل ہوں۔"

اور بھی کئی رویات ہیں جن سے  حضرت امام اعظمؒ کے قول کی تایید ہوتی ہے،تاہم  حرم شریف میں اس کی فضیلت کی وجہ سے صاحبین کے مسلک کے مطابق عمل کرنے کی گنجائش ہے، یعنی حرم شریف میں عصر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنی چاہیے، اگرچہ جماعت دو مثل سے پہلے ہو ۔

الدر مع الرد میں ہے:

"(ووقت الظهر من زواله) أي ميل ذكاء عن كبد السماء (إلى بلوغ الظل مثليه) وعنه مثله، وهو قولهما وزفر والأئمة الثلاثة. قال الإمام الطحاوي: وبه نأخذ. وفي غرر الأذكار: وهو المأخوذ به. وفي البرهان: وهو الأظهر. لبيان جبريل. وهو نص في الباب. وفي الفيض: وعليه عمل الناس اليوم وبه يفتى.

(قوله: إلى بلوغ الظل مثليه) هذا ظاهر الرواية عن الإمام نهاية، وهو الصحيح بدائع ومحيط وينابيع، وهو المختار غياثية واختاره الإمام المحبوبي وعول عليه النسفي وصدر الشريعة تصحيح قاسم واختاره أصحاب المتون، وارتضاه الشارحون، فقول الطحاوي وبقولهما نأخذ لا يدل على أنه المذهب، وما في الفيض من أنه يفتى بقولهما في العصر والعشاء مسلم في العشاء فقط على ما فيه، وتمامه في البحر...(قوله: وهو نص في الباب) فيه أن الأدلة تكافأت ولم يظهر ضعف دليل الإمام، بل أدلته قوية أيضا كما يعلم من مراجعة المطولات وشرح المنية. وقد قال في البحر: لا يعدل عن قول الإمام إلى قولهما أو قول أحدهما إلا لضرورة من ضعف دليل أو تعامل."

(كتاب الصلاة، ج:1، ص:359، ط:سعید)

فیض الباری میں ہے:

"قوله: (حتى رأينا فيء التلول) وعند البخاري في الأذان حتى ساوى الظل التلول، وهذا يدل على أن وقت الظهر يبقى إلى المثلين لأن التلول في الغالب تكون منبطحة ولا تكون شاخصة فلا يظهر لها ظل إلا بعد غاية التأخير."

(کتاب الصلاة، ج:2، ص:145، ط:دار الکتب العلمیة)

البتہ حرمین شریفین میں چوں کہ فضیلت  کا حصول مقصود ہوتا ہے، تو اس ثواب کے حصول کے پیشِ نظر حرمین شریفین میں مثلِ اول میں نماز پڑھنے کی اجازت ہے، اس کے علاوہ میں نہیں۔

فتاوی حقانیہ میں ہے:

"حرمین شریفین کی حرمت اور فضیلت کی وجہ سے جماعت میں شریک ہونا چاہیے اور مثلین تک تاخیر کرنا ضروری نہیں، بلکہ حرمین شریفین میں باجماعت نماز پڑھنا افضل ہے۔"

(کتاب الصلاۃ، ج:3، ص:42، ط:جامعہ دار العلوم حقانیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144406100934

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں