بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

عصر كی نماز مغرب كے وقت پڑهنا


سوال

 آج بروز پیر 12 دسمبر سورج غروب ہونے کا وقت 05:46 تھا اور جب میں نے عصر کی نماز شروع کی تو مغرب کی اذان ہو رہی تھی اور 5:49 کے قریب کچھ وقت ہوا تھا اور جب میں نے نماز ختم کی تو 5:51منٹ چالیس سیکنڈ ہورہے تھے تو کیا عصر کی نماز ہو جائے گی یا دہرانا پڑے گی مجھے گھر پہنچنے میں تھوڑی تاخیر ہوگئی تھی اس وجہ سے نماز میں دیر ہوگئ اور میں نے یہ سن رکھا ہے کہ اگر مغرب کی نماز کا وقت داخل ہو جائے تو عصر کی نماز اگر پڑھ لیں تو ادا ہو جاتی ہے۔

جواب

صورت مسئولہ میں  سائل نے  عصر کی نمازکاوقت ختم ہو نے کے بعد عصرکی نماز  مغرب کے وقت میں پڑھی ہے  تو اس صورت   میں سائل نے عصر کی نماز قضاء پڑھی ہے ، دہرانے کی ضرورت نہیں ہے ، البتہ یہ بات یاد رہے کہ مغرب کا وقت داخل ہو نے کے بعد عصر کی نماز پڑھنے سے ادا نہیں  بلکہ قضا ء ہو گی ۔باقی آئندہ ایسا نہ کرے مستحب وقت میں نماز ادا کرنے کی کوشش کرے۔

مسلم شریف میں ہے :

 "وحدثنا يحيى بن يحيى، حدثنا عبد الله بن وهب، عن موسى بن علي، عن أبيه، قال: سمعت عقبة بن عامر الجهني، يقول: ‌ثلاث ‌ساعات كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهانا أن نصلي فيهن، أو أن نقبر فيهن موتانا: «حين تطلع الشمس بازغة حتى ترتفع، وحين يقوم قائم الظهيرة حتى تميل الشمس، وحين تضيف الشمس للغروب حتى تغرب»."

فقط والله اعلم 


فتوی نمبر : 144405101104

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں