بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

عصائمہ نام رکھنا


سوال

عصائمہ کےمعنیٰ بتا دیں۔

جواب

واضح رہے کہ "عصائمہ" کوئی لفظ نہیں، لہٰذا یہ نام رکھنا بھی درست نہیں۔

اگر سائل کا مقصود   "صائمہ" نام رکھنا ہے تو  "صائمہ" کے معنی ’’رکنے والی‘‘ اور ’’بچنے والی‘‘ کے آتے ہیں، روزہ دار عورت کو بھی ’’صائمہ‘‘ کہتے ہیں؛ کیوں کہ وہ روزہ کے دوران کھانے، پینے اور ازدواجی تعلق قائم کرنے سے رکی رہتی ہے۔  اس معنیٰ کے اعتبار سے ’’صائمہ‘‘ نام رکھنا درست ہے۔

اور اگر "عصامۃ" نام  رکھنامقصود ہو، تو اس کا معنی  ڈول کی رسی، دم کا باریک کنارہ، سرمہ کے آتے ہیں۔

اسی طرح  "عصامیّۃ" (یاء کی تشدید کے ساتھ) کا معنی ہے: ذاتی عظمت والی۔(قاموس الوحید، ص:1090، ط:ادارہ اسلامیات)

بہرحال یہ تمام نام رکھنا جائز ہیں، اگر سائل کا مقصود اس کے علاوہ کوئی اور لفظ تھا تو براہِ کرم اس کو درست املاء کے ساتھ واضح کر کے دوبارہ سوال ارسال فرمائیں۔

تہذیب اللغۃ میں ہے:

"وقال أبو عبيد: العصام: رباط القربة."

(تهذيب اللغة،باب العين والصاد مع الميم، 2/ 35، الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت)

لسان العرب میں ہے:

"وروي عن المؤرج أنه قال: العصام الكحل في بعض اللغات. وقد اعتصمت الجارية إذا اكتحلت، قال الأزهري: ولا أعرف راويه، فإن صحت الرواية عنه فهو ثقة مأمون. وقولهم: ما وراءك يا عصام؛ هو اسم حاجب النعمان بن المنذر، وهو عصام بن شهبر الجرمي؛ وفي المثل: كن عصاميا ولا تكن عظاميا؛ يريدون به قوله:

نفس عصام سودت عصاما … وصيرته ملكا هماما،وعلمته الكر والإقداما"۔

(لسان العرب،حرف الميم، ‌‌فصل العين المهملة، 12/ 408، الناشر: دار صادر - بيروت)

قاموس المحیط میں ہے:

"صام صومًا وصيامًا واصطام: أمسك عن الطعام والشراب والكلام والنكاح والسير، وهو صائم وصومان وصوم."

(القاموس المحيط ،‌‌باب الميم، ‌‌فصل الصاد،ص: 1131،الناشر: مؤسسة الرسالة للطباعة والنشر والتوزيع، بيروت)

فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144401101648

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں