بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

مشاع زمین کو بیچنے اور خود رو گھاس وغیرہ کا حکم


سوال

1: دیہاتوں میں اہل دیہات نے شروع وقت جو زمین لی تھی ،تو وہ پورے علاقہ کی ہوتی تھی،لیکن ہمارے علاقے میں وہ تقسیم ہوگئی ہے،اور   باقاعدہ حکومتی کاغذات میں تقسیم ہوئی ،اور ہر قبیلے کا حصہ متعین ہو گیا، ہمارے قبیلے کے حصے میں  جو زمین آئی ہے ،اس میں ہمارے خاندان کا  تقریباً پانچ فیصد حصہ بنتا ہے،اب مذکورہ زمین  میں سے ہمارے خاندان کا  اس پہاڑ کو تقسیم کیے بغیر اپنا مشاع غیر متعین حصہ بیچنا جائز ہے یا نہیں؟

2:اسی طرح اس غیر تقسیم شدہ پہاڑ کے خود رو گھاس ، درخت اور پودوں کو اس طور پر بیچنا کہ مثلا سالانہ پچاس ہزار روپے دینے ہوں گے چاہے جتنا بھی فائدہ اس سے اٹھائے ، گھاس اور پودے وغیرہ کاٹ کر بکریوں وغیرہ کو کھلائیں   ہر صورت میں متعین رقم دینی ہوگی،جو ہمارے ہاں "قلنگ" کے نام سے مشہور ہے،اسی طرح ان جیسے خود رو گھاس،درخت اور پودے مالک کے علاوہ کسی اور غیر مالک کے لیے کاٹ کر استعمال میں لانا یا فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ "شاملات"دراصل ان غیر آباد زمینوں کو کہا جاتا ہےجو کسی گاؤں یا بستی کے قریب واقع ہوتی ہیں،عام طور پر ہمارے بلاد میں عرف اور رواج یہ چلا آرہا ہے کہ جب کوئی خاندان  کوئی گاؤں وغیرہ آباد کرتا ہے تووہ گاؤں کے قریب واقع غیر آباد زمینوں کے  ایک حصے کو گاؤں کی  مشترکہ ضروریات و حاجات کے پیشِ نظر  گاؤں سے منسلک کردیتا ہے،اور اس تمام ملحَقہ حصے کو گاؤں کی مشترک ملکیت سمجھا جاتا ہے،اسی مشترکہ ملکیت کو "شاملات "کہا جاتا ہے،عموماً جو زمین شاملات کا حصہ قرار دی جاتی ہے وہ گاؤں کی آباد شدہ زمینوں کا دوگنایا تین گنا ہوتی ہے،شاملات زمین کسی کی ذاتی اور انفرادی ملکیت نہیں ہوسکتی، نہ کسی کے لیے اس کا  انفرادی مالک بننا یا ملکیت کا دعوی کرناجائز ہے،بلکہ وہ گاؤں کے تمام باشندوں کی  اجتماعی اور مشترکہ ملکیت ہوتی ہے، اور وہ زمین ان کے اجتماعی کاموں ،مصالح اور گاؤں والوں کی مشترک ضرورتوں مثلاً   چراگاہ اور ایندھن  وغیرہ  کے حاصل کرنے کے لیے   استعمال کی جاتی ہے۔

1:لہذا صورتِ مسئولہ میں  اگر مذکورہ زمین شاملات ہے،تو شاملات کسی کی ملکیت نہیں ہو سکتی ، اور اگر یہ زمین تقسیم کے بعد  پورے گاؤں کی نہیں رہی بلکہ  مختلف قبائل کے درمیان تقسیم ہوئی ہے ،تب بھی یہ شخصی ملکیت نہیں کہلائے گی ،لہذا قبیلے والے اس سے فائدہ تو اٹھا سکتے ہیں لیکن  اس کی خرید وفروخت کرنا جا ئز نہیں ہے۔ہاں اگر قبیلے والوں نے  ہر ایک خاندان کا حصہ  جگہ کے اعتبار سے متعین کردیا ہو اور ہر خاندان والااپنے حصے کی زمین میں ہر قسم کے تصرف کا اختیاررکھتا ہو تو خاندان والے باہمی مشورے سے اس زمین کے بارے میں فیصلہ کرسکتے ہیں،لیکن انفرادی طور  پر کسی ایک فرد کا اس زمین میں مالکانہ  تصرف کرنا جائز نہیں ہے، ہاں اگر حکومت سے خریدی جائے یا حکومت مالک بنا کر دے دے پھر ہر آدمی اپنا اپنا حصہ فروخت کر سکے گا۔

2:جو گھاس بغیر بیج بوئے اور بغیرکھادوپانی دیےزمین میں اُگے، وہ اصلاًمباح ہے، چاہے مملوکہ زمین میں اُگے یا غیر مملوکہ زمین میں اُگے،  کاٹنے سے پہلے اس کی خریدوفروخت جائزنہیں، اسی طرح کسی دوسرے کو کاٹنے سے منع کرنا بھی درست نہیں، البتہ  اگر قبیلے والوں نے  باڑھ لگاکر چراگاہ  کو محفوظ کرلیا ہو تو دوسرے لوگوں کو  قبیلے والوں  کی اجازت کے بغیر اس  زمین میں داخل ہونے اور جانوروں کو چرانے کی اجازت نہیں ہوگی،البتہ قبیلے والوں  کےلیے گھاس کی خریدو فروخت کی جائزصورت یہ ہے کہ گھاس کاٹ کرفروخت کریں یاپھرزمین کے جس حصے پر گھاس ہے، وہ حصہ گھاس  کے خریدار کو گھاس کے علاوہ کسی اور منفعت کے لیےاتنے  وقت کے  کرایہ پر دے  جس میں وہ گھاس کاٹ سکے،اس صورت میں حاصل ہونے والی آمدنی پورے قبیلے کی مشترکہ ہوگی۔ 

بدائع  الصنائع میں ہے:

"فالأرض الموات هي أرض ‌خارج ‌البلد لم تكن ملكا لأحد ولا حقا له خاصا."

(کتاب الاراضی، ج:6، ص:193، ط: دار الكتب العلمية)

مجمع الانہر میں ہے:

"(من أحياها) أي الموات (بإذن الإمام) أو نائبه (ولو) وصلية (ذميا ملكها) أي ملك المحيي الموات (وبلا إذنه) أي بلا إذن الإمام أو نائبه (لا) يملكها.....أن الأرض ‌مغنومة لاستيلاء المسلمين عليها فلم يكن لأحد أن يختص بدون إذن الإمام كسائر المغانم."

(كتاب إحياء الموات، ج:2، ص:558، ط: دار إحياء التراث العربي)

فتاوی شامی میں ہے:

"ولو كانت الدار مشتركة بينهما باع أحدهما بيتا ‌معينا ‌أو ‌نصيبه من بيت معين فللآخر أن يبطل البيع."

(‌‌كتاب الشركة، ج:4، ص:302، ط: سعید)

بدائع  الصنائع میں ہے:

"فأما شركة الأملاك فحكمها في النوعين جميعا واحد، وهو أن كل واحد من الشريكين كأنه أجنبي في نصيب صاحبه، ‌لا ‌يجوز ‌له ‌التصرف ‌فيه ‌بغير ‌إذنه لأن المطلق للتصرف الملك أو الولاية ولا لكل واحد منهما في نصيب صاحبه ولاية بالوكالة أو القرابة؛ ولم يوجد شيء من ذلك وسواء كانت الشركة في العين أو الدين لما قلنا."

(كتاب الشركة، فصل في حكم الشركة، ج:6، ص:65، ط: دار إحياء التراث العربي)

درر الحکام میں ہے:

"لأن الشريك إذا ‌باع ‌نصفا ‌معينا ‌من ‌الدار ‌المشتركة على وجه الشيوع بينه وبين شريكه الآخر فالبيع لا يجوز فلو باع الشريك غرفة معينة من الدار المشتركة بينه وبين آخر إلى أجنبي فالبيع غير صحيح في حصة البائع ولا في حصة شريكه؛ لأن الغرفة التي بيعت ليست للبائع فقط بل للشريك الآخر شركة في كل جزء منها كما للأول (بزازية) والظاهر أن البيع في أحد النصفين جائز وفي الآخر موقوف على إجازة الشريك."

(الفصل الثاني فيما يجوز بيعه وما لا يجوز، (المادة 215) بيع الحصة المعلومة الشائعة بدون إذن الشريك، ج:1، ص:189، ط: دار الجيل)

بدائع  الصنائع میں ہے:

"و أما الكلأ الذي ينبت في أرض مملوكة، فهو مباح، غير مملوك، إلا إذا قطعه صاحب الأرض، و أخرج فيملكه، هذا جواب ظاهر الرواية عن أصحابنا. و قال بعض المتأخرين من مشايخنا  رحمهم الله: أنه إذا سقاه، و قام عليه، ملكه، و الصحيح جواب ظاهر الرواية؛ لأنّ الأصل فيه هو الإباحة، لقوله  صلى الله علیه و سلّم: الناس شركاء في ثلاث: الماء، و الكلأ، و النار. و الكلأ:اسم لحشيش ينبت من غير صنع العبد، و الشركة العامة هي الإباحة، إلا إذا قطعه و أحرزه؛ لأنه استولى على مال مباح غير مملوك، فيملكه كالماء المحرز في الأواني ،والظروف ،وسائر المباحات التي هي غير مملوكة لأحد."

(کتاب الاراضی، ج:6، ص:193، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"الكلام في الكلأ على أوجه، أعمها: ما نبت في موضع غير مملوك لأحد، فالناس شركاء في الرعي و الاحتشاش منه كالشركة في ماء البحار. و أخص منه: و هو ما نبت في أرض مملوكة بلا إنبات صاحبها، و هو كذلك، إلا أنّ لربّ الأرض المنع من الدخول في أرضه، و أخص من ذلك كله: و هو أن يحتشّ الكلأ أو أنبته في أرضه، فهو ملك له، و ليس لأحد أخذه بوجه لحصوله بكسبه، ذخيرة و غيرها ملخّصًا ... (قوله: فیقال للمالك إلخ) أي: إن لم یجد كلأ في أرض مباحًا قریبًا من تلك الأرض ط عن الهندیة: و هذا إذا كان الكلأ نابتًا في ملكه بلا إنباته و لم یحتشّه."

(‌‌كتاب إحياء الموات، فصل الشرب، ج:6، ص:441، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144504100662

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں