بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ذو الحجة 1442ھ 04 اگست 2021 ء

دارالافتاء

 

مصنوعی زیور کی خرید و فروخت


سوال

آرٹیفشل (مصنوعی)  زیور کا استعمال اور اس کا کاروبار کرنا کیسا ہے؟  کیا ہر آرٹیفشل زیور جائز ہے یا اس میں تفصیل ہے؟

جواب

انگھوٹی  کے علاوہ عورتوں کے دیگر مصنوعی زیورات کی خرید وفروخت اور عورتوں کے لیے اس کا استعمال  جائز ہے، سونے  چاندی کے علاوہ کسی دوسری  دھات کی انگھوٹی عورتوں کے لیے بھی ممنوع ہے  اور   اس مقصد سے اس کی خرید و فروخت  بھی جائز  نہیں۔

ہاں سونے اور چاندی کے علاوہ دھات کی انگوٹھیاں  ایسے شخص کو فروخت  کرنا جائز ہے جس کا مقصد  اسے ڈھال کر  پہننے کے علاوہ کسی صورت میں استعمال کرنا ہو،  یا اسے بھی ڈھال کر خواتین کے دوسرے زیورات بنانا ہو، ورنہ سونا چاندی کے علاوہ دھات کی انگوٹھی کی بیع کراہت سے خالی نہ ہو گی۔   

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:

"(وأما) التختم بما سوى الذهب والفضة من الحديد والنحاس والصفر فمكروه للرجال والنساء جميعًا؛ لأنه زي أهل النار لما روينا من الحديث."

(کتاب الاستحسان ج نمبر ۵ ص نمبر ۱۳۳،دار الکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144111200997

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں