بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 صفر 1443ھ 27 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

عرق والی مہندی لگانا


سوال

کیا عرق والی مہندی لگانا جائز ہے؟  اور عرق کی تعریف کیا ہے ؟

جواب

ہر قسم کی مہندی لگانا جائز ہے بشرطیکہ  مہندی میں کوئی ناپاک چیز ملی ہوئی نہ ہو، مہندی لگانے کے بعد وضو اور غسل وغیرہ کا حکم یہ ہے کہ مہندی لگانے یا رنگنے سے جو رنگ لگا رہ جائے اس سے وضو اور غسل وغیرہ میں خلل نہیں آتا، البتہ اگر جمی ہوئی مہندی خشک ہوجائے اور ہاتھ پر جمی رہ گئی تو اس پر وضو صحیح نہیں ہوگا، کیوں کہ وہ جسم پر پانی پہنچنے سے مانع ہوتی ہے۔ موجودہ دور میں بعض مہندیاں ایسی ہیں کہ لگانے کے بعد جب ہاتھ دھولیتے ہیں تو رنگ کے ساتھ ساتھ ایک باریک جھلی نما تہہ بن جاتی ہے اور بعد میں جب رنگ اترنے لگتا ہے تو ایک باریک تہہ چھلکا بن کر الگ ہوجاتی ہے، ایسی مہندی لگاکر وضو کرنے سے وضو ہوجائے گا ؛ کیوں کہ وہ جسم تک پانی پہنچنے سے مانع نہیں ہوتی ہے، بشرطیکہ نفسِ مہندی کو دھو کر زائل کرلیا ہو اور صرف رنگ باقی رہ گیا ہو۔

ملحوظ رہے کہ یہاں صرف شرعی مسائل کا جواب دیا جاتاہے، "عرق" کی تعریف سے مذکورہ شرعی مسئلے کا تعلق نہیں ہے، مسئلے کا شرعی حکم بتادیا گیا ہے، عرق کی تعریف کے لیے یہاں کلک کریں۔

"الدر المختار وحاشية ابن عابدين"  (رد المحتار) (1/ 154):

''(ولا يمنع) الطهارة (ونيم) أي خرء ذباب وبرغوث لم يصل الماء تحته (وحناء) ولو جرمه، به يفتى۔

(قوله: به يفتى) صرح به في المنية عن الذخيرة في مسألة الحناء والطين والدرن معللاً بالضرورة. قال في شرحها: ولأن الماء ينفذه لتخلله وعدم لزوجته وصلابته، والمعتبر في جميع ذلك نفوذ الماء ووصوله إلى البدن''۔

''الفتاوى الهندية'' (1/ 4)

''في فتاوى ما وراء النهر: إن بقي من موضع الوضوء قدر رأس إبرة أو لزق بأصل ظفره طين يابس أو رطب لم يجز، وإن تلطخ يده بخمير أو حناء جاز۔

وفي الجامع الصغير: سئل أبو القاسم عن وافر الظفر الذي يبقى في أظفاره الدرن أو الذي يعمل عمل الطين أو المرأة التي صبغت أصبعها بالحناء، أو الصرام، أو الصباغ؟ قال: كل ذلك سواء، يجزيهم وضوءهم ؛ إذ لا يستطاع الامتناع عنه إلا بحرج، والفتوى على الجواز من غير فصل بين المدني والقروي. كذا في الذخيرة۔ وكذا الخباز إذا كان وافر الأظفار. كذا في الزاهدي ناقلاً عن الجامع الأصغر. والخضاب إذا تجسد ويبس يمنع تمام الوضوء والغسل. كذا في السراج الوهاج ناقلاً عن الوجيز''.

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144208200141

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں