بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

ارکان اسلام کا رکن روزہ


سوال

ارکان اسلام  میں روزہ کون سا رکن ہے؟  تیسرا یا چوتھا؟

جواب

صحیح حدیث شریف میں ہے  کہ  حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے:

1۔۔  اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔

2۔ ۔  نماز قائم رکھنا۔

3۔۔  زکوٰۃ  دینا۔

4۔۔حج کرنا

5۔ رمضان کے روزے رکھنا۔

اور بعض روایات میں  روزہ کے چوتھے رکن  ہونے کی صراحت ہے ، جیساکہ صحیح مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :  اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے:  (1)توحید (2) نماز قائم کرنا ( 3) زکوٰۃ ادا کرنا (4) رمضان کے روزہ رکھنا (5) حج بیت اللہ۔   تو ایک آدمی نے حضرت عبد اللہ  بن عمر  رضی اللہ عنہما سے کہا کہ (ترتیب یوں ہے) حج اور  رمضان  کے روزے  رکھنا تو  انہوں  نے فرمایا : ”نہیں ! رمضان کے روزے اور حج“ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح سنا ہے۔

حاصل یہ ہے اسلامی کی بنیادی ارکان یہ پانچ ہیں، اور ان سب میں بنیادی ستون  ”ایمان“ ہے، یعنی توحید ورسالت کا اقرار کرنا ہے، اس کے بعد باقی چار ارکان ہیں، ان میں افضیلیت کی ترتیب یہ ہے کہ :

  ان ميں سے پهلا ”نماز“ هے، اس ليے نماز  دین کا ستون ہے، اور  روزانہ پانچ مرتبہ اس کی ادائیگی ہوتی ہے۔

اس کے بعد  ”زکوٰۃ “ ہے، اس لیے نماز کے بعد یہ افضل عبادت ہے، قرآن وسنت میں اس کا ذکر  روزہ اور حج  سے زیادہ اہتمام سے ذکر کیا گیا ، اور پھر قرآن مجید میں اس کو تقریبًا 82 مقامات میں  نماز کے ساتھ ملا کرذکر کیا گیا ہے۔

اس کے بعد  روزہ  اور حج میں سے بعض نے روزہ کو چوتھا اور حج کو پانچوں اور بعض نے حج کو چوتھا اور روزہ کو پانچواں رکن قرار دیا ہے، لیکن عام طور پر فقہاء کرام روزہ کو   چوتھا رکن قرار دیتے ہیں، ایک تو یہ بدنی عبادت ہے، اور حج بدنی اور مالی  عبادت کا مجموعہ ہے، اور مفرد، مرکب پر مقدم ہوتا ہے، دوسرا یہ کہ حج ہر ایک پر فرض نہیں ہوتا، جب کہ روزہ ہر سال ہر تندرست شخص پر فرض ہوجاتا ہے، اسی طرح روزہ کی فرضیت بھی  حج کی فرضیت سے مقدم ہے۔

مشكاة المصابيح (1/ 10):

"وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " بني الإسلام على خمس: شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمداً عبده ورسوله وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة والحج وصوم رمضان ". (متفق عليه)

صحيح مسلم (1 / 45):

"حدثنا أبو خالد يعني سليمان بن حيان الأحمر، عن أبي مالك الأشجعي، عن سعد بن عبيدة، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «بني الإسلام على خمسة، على أن يوحد الله، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، وصيام رمضان، والحج» ، فقال رجل: الحج، وصيام رمضان، قال: «لا، صيام رمضان، والحج» هكذا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم."

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 256):

" كِتَابُ الزَّكَاةِ قَرْنُهَا بِالصَّلَاةِ فِي اثْنَيْنِ وَثَمَانِينَ مَوْضِعًا فِي التَّنْزِيلِ دَلِيلٌ عَلَى كَمَالِ الِاتِّصَالِ بَيْنَهُمَا.

(قَوْلُهُ: قَرْنُهَا) بِصِيغَةِ الْمَصْدَرِ مُبْتَدَأٌ، وَقَوْلُهُ: دَلِيلٌ إلَخْ خَبَرٌ ط. وَحَاصِلُهُ أَنَّ الْقِيَاسَ ذِكْرُ الصَّوْمِ عَقِبَ الصَّلَاةِ كَمَا فَعَلَ قَاضِي خَانْ لِأَنَّهُ بَدَنِيٌّ مَحْضٌ مِثْلُهَا، إلَّا أَنَّ أَكْثَرَهُمْ قَدَّمُوا الزَّكَاةَ عَلَيْهِ اقْتِدَاءً بِكِتَابِ اللَّهِ - تَعَالَى نُوحٌ وَلِأَنَّهَا أَفْضَلُ الْعِبَادَاتِ بَعْدَ الصَّلَاةِ قُهُسْتَانِيٌّ.

قُلْت: وَهُوَ مُوَافِقٌ لِمَا فِي التَّحْرِيرِ وَشَرْحِهِ أَوَائِلَ الْفَصْلِ الثَّانِي مِنْ الْبَابِ الْأَوَّلِ مِنْ أَنَّ تَرْتِيبَهَا فِي الْأَشْرَفِيَّةِ بَعْدَ الْإِيمَانِ هَكَذَا: الصَّلَاةُ، ثُمَّ الزَّكَاةُ، ثُمَّ الصِّيَامُ، ثُمَّ الْحَجُّ، ثُمَّ الْعُمْرَةُ وَالْجِهَادُ، وَالِاعْتِكَافُ، وَتَمَامُ الْكَلَامِ عَلَيْهِ هُنَاكَ."

عمدة القاري شرح صحيح البخاري (1 / 101):

"وأما السنة فقوله صلى الله عليه وسلم: بني الإسلام على خمس الحديث ولأنها عماد الدين والحاجة إليها ماسة لتكررها كل يوم خمس مرات ثم أعقبها بالزكاة لأنها ثالثة الإيمان وثانية الصلاة فيهما ولاعتناء الشارع بها لذكرها أكثر من الصوم والحج في الكتاب والسنة ثم أعقبها بالحج لأن العبادة إما بدنية محضة أو مالية محضة أو مركبة منهما فرتبها على هذا الترتيب والمفرد مقدم على المركب طبعا فقدمه أيضا وضعا ليوافق الوضع الطبع وأما تقديم الصلاة على الزكاة فلما ذكرنا ولأن الحج ورد فيه تغليظات عظيمة بخلاف الصوم ولعدم سقوطه بالبدل لوجوب الإتيان به إما مباشرة أو استنابة بخلاف الصوم ثم أعقب الحج بالصوم لكونه مذكورا في الحديث المشهور مع الأربعة المذكورة وفي وضع الفقهاء الصوم مقدم على الحج نظرا إلى كثرة دورانه بالنسبة إلى الحج وفي بعض النسخ يوجد كتاب الصوم مقدما على كتاب الحج كأوضاع الفقهاء."

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (1 / 69):

"و أما تأخيره عن الصوم كما في رواية صحيحة فرعاية للترتيب، فإن الصوم فرض في السنة الثانية، والحج فرض سنة خمس، أو ست، أو ثمان، أو تسع. (متفق عليه)."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144210200611

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں