بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1446ھ 19 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

عارضی کیمپ میں جمعہ کی نماز پڑھنے کا حکم


سوال

میں ایک  جگہ (کراچی سے باہر  بیت السلام لنک روڈ کی طرف) کیمپ کے مصلے میں نماز پڑھاتا ہوں،  پانچ وقت کی نماز وہاں ادا کی جاتی ہے، یہ عارضی کیمپ ہے، چائنا والوں کے ساتھ کام کرنے والے  مزدور وہاں رہتے ہیں،  وہاں تقریبا چالیس لوگ قیام پذیر ہیں ،ہم سے مسجد تقریبا دس کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ،کیمپ کےآس پاس کوئی آبادی   یا بازار وغیرہ بھی نہیں ہے اگر کوئی باہر مسجد میں جمعہ پڑھنے جائے  تو گاڑی میں جانا پڑتا ہے اور یہاں تمام افرادکے پاس گاڑی کا انتظام بھی نہیں ہے، کچھ افسر لوگ ہیں جن کے پاس گاڑیاں ہیں جو آتے جاتےہیں، اب سوال یہ ہے کہ میں یہاں جمعہ پڑھاتاتھا،ایک مولوی صاحب نے فرمایا کہ یہاں جمعہ  نہیں ہوتا ۔آپ فرمادیں کہ یہاں جمعہ کا کیا  حکم ہے؟کیا یہاں جمعہ ادا کرسکتے ہیں؟اگر ادانہیں کر سکتے تو کیا دوسری جگہ جاکر جمعہ پڑھنا ضروری ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ  میں جمعہ قائم کرنے کی شرائط میں سے ایک شرط شہر  یا فنائے شہر  یا بڑےگاؤں کا ہونا ہے،لہذا مذکورہ کیمپ اگر فنائے شہر میں واقع ہے  ،یا ایسے علاقے میں واقع ہے جہاں پر دو ڈھائی ہزار آبادی ہے  تو  اس میں جمعہ کی نماز پڑھنا درست ہے ، اور اگر مذکورہ کیمپ شہر یا فنائے شہر یا بڑے گاؤں میں نہیں ہے تو  پھر جمعہ کی نماز نہ پڑھیں بلکہ ظہر کی نما ز پڑھیں۔ جہاں آپ لوگ رہتے ہیں  وہاں اگر یہ مذکورہ شرائط معدوم ہیں  تو پھر دوسری جگہ جا کر  جمعہ پڑھنا آپ لوگوں پر لازم نہیں،بلکہ ظہر کی نماز پڑھیں۔

الدر المختار مع حاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"وعبارة القهستاني تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق قال أبو القاسم: هذا بلا خلاف إذا أذن الوالي أو القاضي ببناء المسجد الجامع وأداء الجمعة لأن هذا مجتهد فيه فإذا اتصل به الحكم صار مجمعا عليه، وفيما ذكرنا إشارة إلى أنه لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات والظاهر أنه أريد به الكراهة لكراهة النفل بالجماعة؛ ألا ترى أن في الجواهر لو صلوا في القرى لزمهم أداء الظهر".

(باب الجمعة،ج:2،ص:138،ط:سعید)

الدر المختار میں ہے:

"(أو فناؤه) بكسر الفاء (وهو ما) حوله (اتصل به) أو لا كما حرره ابن الكمال وغيره (لأجل مصالحه) كدفن الموتى وركض الخيل والمختار للفتوى تقديره بفرسخ ذكره الولوالجي".

وفي الرد:"(قوله والمختار للفتوى إلخ) اعلم أن بعض المحققين أهل الترجيح أطلق الفناء عن تقديره بمسافة وكذا محرر المذهب الإمام محمد وبعضهم قدره بها وجملة أقوالهم في تقديره ثمانية أقوال أو تسعة غلوة ميل ميلان ثلاثة فرسخ فرسخان ثلاثة سماع الصوت سماع الأذان والتعريف أحسن من التحديد لأنه لا يوجد ذلك في كل مصر وإنما هو بحسب كبر المصر وصغره. بيانه أن التقدير بغلوة أو ميل لا يصح في مثل مصر لأن القرافة والترب التي تلي باب النصر يزيد كل منهما على فرسخ من كل جانب، نعم هو ممكن لمثل بولاق فالقول بالتحديد بمسافة يخالف التعريف المتفق على ما صدق عليه بأنه المعد لمصالح المصر فقد نص الأئمة على أن الفناء ما أعد لدفن الموتى وحوائج المصر كركض الخيل والدواب وجمع العساكر والخروج للرمي وغير ذلك وأي موضع يحد بمسافة يسع عساكر مصر ويصلح ميدانا للخيل والفرسان ورمي النبل والبندق البارود واختبار المدافع وهذا يزيد على فراسخ فظهر أن التحديد بحسب الأمصار اهـ ملخصا من [تحفة أعيان الغني بصحة الجمعة والعيدين في الفنا] للعلامة الشرنبلالي".

(‌‌كتاب الصلاة، باب الجمعة، 2/ 138، ط: سعید)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144510101797

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں