بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 شوال 1443ھ 26 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

عاقلہ بالغہ لڑکی کا اپنی پسند کی شادی کے لیے والدین سے اصرار کرنا


سوال

 میں جس لڑکے سے شادی کرنا چاہتی ہوں، میرے گھروالے اس لڑکے کو پسند نہیں کرتے؛ لہذا میں نے استخارہ کیا شادی کا، نیت یہ تھی کہ اللہ جو میرے لیے بہتر ہے وہ مجھ کو دکھا دے  تو مجھ کو خواب میں میرا کزن نظر آیا تو اللہ کے مشورے سے میں نے اپنی پسند کو ترک کر کے صرف اللہ کی رضا کی خاطر اس کزن کے لیے راضی ہو گئی۔ میرے گھر والوں نے استخارہ کی بنیاد پر رشتہ بھیج دیا کزن کی طرف،  لیکن اس لڑکے نے آگے سے انکار کر دیا تو آیا  اب کیا میں اپنی پسند کی شادی  کے لیے گھر والوں کو مجبور کر سکتی ہوں؟  کیا میرا مجبور کرنا مجھ کو گناہ گار تو نہیں کرے گا؟  کیا اللہ کی نافرمانی تو نہیں ہے اس میں؟  جب کہ میں عاقل بالغ ہوں اور اپنے نکاح کرنے میں خود مختار ہوں  تو کیا ولی یا میرے ماں باپ مجھ کو مجبور کر سکتے ہیں کہیں اور شادی کرنے پر؟  اور اگر میں مجبور ہو کر اپنے ماں باپ کی رضا کی خاطر ان کی مرضی سے شادی کر بھی لیتی ہوں تو کیا نکاح ہو جاۓ گا،  جب کی میں دل سے راضی نہ بھی ہوں؟

جواب

واضح رہے کہ پسند کی شادی میں  عام طور وقتی جذبات محرک بنتے ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ ان جذبات اور پسندیدگی میں کمی آنے لگتی ہے، نتیجۃً ایسی شادیاں ناکام ہوجاتی ہیں اورعلیحدگی کی نوبت آجاتی ہے، جب کہ اس کے مقابلے میں خاندانوں اور رشتوں کی جانچ پڑتال کا تجربہ رکھنے والے والدین اورخاندان کے بزرگوں کے کرائے ہوئے رشتے زیادہ پائے دار ثابت ہوتے ہیں اور بالعموم شریف گھرانوں کا یہی طریقہ کارہے، ایسے رشتوں میں وقتی ناپسندیدگی عموماً  گہری پسند میں بدل جایا کرتی ہے؛ اس لیے مسلمان بچوں اوربچیوں کوچاہیے کہ وہ  اپنے ذمہ کوئی بوجھ اٹھانےکے بجائے اپنےبڑوں پراعتماد کریں،  ان کی رضامندی کے بغیر کوئی قدم نہ اٹھائیں۔

نیز شریعت نے لڑکے، لڑکی کے نکاح کا اختیار والدین کو دے کر انہیں بہت سی نفسیاتی و معاشرتی سی الجھنوں سے بچایا ہے، اس لیے کسی واقعی شرعی مجبوری کے بغیر خاندان کے بڑوں کے موجود ہوتے ہوئے لڑکے یا لڑکی کا از خود آگے بڑھنا خدائی نعمت کی ناقدری ہے، بےشمار واقعات شاہد ہیں کہ کسی کے بہکاوے میں آکر کیے گئے یہ نادانی کے فیصلے بعد کی زندگی کو اجیرن کر ڈالتے ہیں، لہذا والدین کی پسند کے بغیر از خود نکاح کرلینا مناسب نہیں ہے۔

جب کہ دوسری طرف والدین  کو بھی چاہیے کہ عاقلہ بالغہ لڑکی کی رائے کا احترام کرے اور ایسا رویہ ہر گز نہ رکھے کہ اولاد کوئی ایسا قدم اٹھانے پر مجبور ہوجائے جو سب کے لیے رسوائی کا باعث ہو، اس لیے  شریعتِ مطہرہ  نکاح کے معاملہ میں عاقلہ بالغہ لڑکی کے ولی کو اس بات کا حکم دیتی ہے کہ اس کا  نکاح اس کی مرضی کے بغیر نہ کرے، بلکہ اس کے نکاح کے لیے اس سے اجازت اور دلی رضامندی حاصل کرے، اگر لڑکی نکاح پر راضی نہ ہو تو ولی کے لیے اس کا  زبردستی نکاح کرنا درست نہ ہو گا۔

تاہم اگر والدین کے اصرار پر  لڑکی نے زبانی طور پر نکاح کی اجازت دے دی اور ایجاب قبول کر لیا تو نکاح منعقد ہو جائے گا۔

حاصل یہ ہے کہ آپ مناسب طریقہ سے اپنی بات اپنے بڑوں کے سامنے رکھ دیں، اس میں آپ گناہ گار نہیں ہوں گی اور اس کے بعد اگر وہ تحقیق کے بعد اس رشتے کو مناسب سمجھیں تو انہیں بھی چاہیے کہ وہ ضد اور ذاتی انا کے بجائے آپ کی رائے کا احترام کرتے ہوئے آپ کا نکاح کردیں، لیکن اگر وہ رشتے کو آپ کے لیے مناسب نہیں سمجھتے تو آپ  پھر بڑوں کے  کیے ہوئے فیصلوں پر اعتماد کریں، اور اللہ تعالیٰ سے خوب دعا کریں۔ نیز درج ذیل ورد بھی جاری رکھیں ان شاء اللہ معاملہ بعافیت حل ہوجائے گا:

نمازِعشاء کے بعد اول وآخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف اوردرمیان میں گیارہ سومرتبہ ’’یاَلَطِیْفُ‘‘ پڑھ کراللہ تعالیٰ کے حضور دعاکریں۔(آپ کے مسائل اور ان کا حل4/251،مکتبہ لدھیانوی) 

باقی استخارے کے بعد خواب میں کزن کو دیکھنے میں اس سے رشتے کی طرف اشارہ ہونا ضروری نہیں تھا، مناسب تھا کہ اس وقت کسی معبّر (تعبیر بتانے والے عالم) سے معلوم کرلیا جاتا۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144204200268

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں