بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

عقیقہ کے پیسے غریب کو دینا


سوال

عقیقہ کرنا لازم ہے یا ان پیسوں کو غریبوں کو  بھی دے سکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ لڑکا یا لڑکی کے پیدائش کے ساتویں روز صاحب استطاعت شخص کے لیےاگر لڑکا ہو تو دو بکرے یا دو بکری اور اگر لڑکی ہو تو ایک بکرا یا بکری ذبح کرنا  مستحب اور افضل ہے اور عقیقہ کا یہی طریقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے لہذاکسی غریب کی مدد کرنے سے عقیقہ مسنونہ ادا نہ ہوگا اور اس کی خیر و برکات حاصل نہیں ہوں گی۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"يستحب لمن ولد له ولد أن يسميه يوم أسبوعه ويحلق رأسه ويتصدق عند الأئمة الثلاثة بزنة شعره فضة أو ذهبا ثم يعق عند الحلق عقيقة إباحة على ما في الجامع المحبوبي، أو تطوعا على ما في شرح الطحاوي، وهي شاة تصلح للأضحية تذبح للذكر والأنثى سواء فرق لحمها نيئا أو طبخه بحموضة أو بدونها مع كسر عظمها أو لا واتخاذ دعوة أو لا، وبه قال مالك. وسنها الشافعي وأحمد سنة مؤكدة شاتان عن الغلام وشاة عن الجارية غرر الأفكار ملخصا."

(کتاب الاضحیة جلد ۶ ص : ۳۶۶ ط : دارالفکر)

بدائع الصنائع میں ہے:

"(‌ومنها) ‌أن ‌لا ‌يقوم غيرها مقامها حتى لو تصدق بعين الشاة أو قيمتها في الوقت لا يجزيه عن الأضحية؛ لأن الوجوب تعلق بالإراقة والأصل أن الوجوب إذا تعلق بفعل معين أنه لا يقوم غيره مقامه كما في الصلاة والصوم وغيرهما."

(کتاب الاضحیة ، فصل فی انواع کیفیة الوجوب جلد ۵ ص : ۶۶ ط : دار الکتب العلمیة)

فقط و اللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144311101591

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں