بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

عقیقہ کے لیے جانور کا دو دانت ہونا ضروری ہے؟


سوال

عقیقہ کے لیے گاۓ  یابیل کا دو دانت ہونا ضروری ہے؟

جواب

واضح رہے کہ عقیقہ کےجانور کی بھی وہی شرائط ہیں جو قربانی کے جانور کی ہیں، لہذا صورت مسئولہ  گاۓ یا بیل کا دوسال کا ہونا ضروری ہے، چاہے دو دانت ہوں یا نہ ہوں ،چناں چہ اگر عقیقہ میں   گاۓ یا بیل کوذبح کیا جاۓ اور اس کی عمر دو سال یا دو سال سے زائد ہو  چاہے گاۓ یا بیل   کےدو دانت ہوں یا نہ ہوں بہر حال عقیقہ صحیح ہوجاۓ گا۔

اعلاء السنن میں ہے:

"من ولد له غلام "فليعق عنه من الإبل أو البقر أو الغنم" دليل على جواز العقيقة ببقرة كاملة أو ببدنة كاملة كذالك."

(كتاب الذبائح، باب افضلية ذبح الشاة في العقيقة، 117/17، ط: ادارة القرآن)

الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:

"حكم اللحم كالضحايا، يؤكل من لحمها، ويتصدق منه، ولا يباع شيء منها. ويسن طبخها، ويأكل منها أهل البيت وغيرهم في بيوتهم."

(‌‌‌‌الباب الثامن: الأضحية والعقيقة،‌‌‌‌الفصل الثاني:‌‌ العقيقة وأحكام المولود،‌‌المبحث الأول ـ العقيقة،2749/4، ط:دار الفكر)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(وأما سنه) فلا يجوز شيء مما ذكرنا من الإبل والبقر والغنم عن الأضحية إلا الثني من كل جنس."

(كتاب الأضحية،الباب الخامس في بيان محل إقامة الواجب،297/5، ط: رشیدیة)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144501101261

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں