بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1444ھ 03 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

عقیقہ کے جانور کی عمر کے بارے میں احسن الفتاوی کے غیر راجح قول کی تحقیق


سوال

معزز مفتیان کرام اس مسئلہ میں رہنمائی فرمائیں کہ عام کتب فقہ میں یہ مسئلہ مذکور ہے کہ "صحت عقیقہ کیلئے جانور کی عمر کی وہی شرط ہے جو قربانی کے جانور کی ہے"، ملاحظہ ہو: اعلاء السنن جلد 17, صفحہ 117 طبع ادارہ القران والعلوم الاسلامیہ، فتاویٰ محمودیہ جلد 17، صفحہ 513 ، کتاب العقیقہ، طبع دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی، تسہیل بہشتی زیور جلد2، صفحہ 270، فتاویٰ دارالعلوم زکریا جلد 5، صفحہ 479، لیکن احسن الفتاویٰ جلد 7، صفحہ 477 کتاب الاضحیہ طبع ایچ ایم سعید کمپنی پر یہ عبارت لکھی ہوئی ملی کہ" البتہ صحتِ عقیقہ کے لیے کوئی عمر شرط نہیں، اس لیے عقیقہ ہو گیا"، اس ظاہری تعارض سے تشویش سی محسوس ہورہی ہے، کہ کیا یہ واقعی تعارض ہے یا باقی فتاویٰ نے اس قید کی تصریح نظر انداز کی ہے ؟راہ نمائی فرماکر عندالناس مشکور و عنداللہ ماجور ہوں ۔

جواب

واضح رہے کہ فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق عقیقہ کے جانور کے لیےوہی شرائط ہیں،جوشرائط قربانی کے لیے جانور کے لیے متعین و مختص ہیں،اس لیےجو جانورعمر کے لحاظ سے قربانی کا اہل نہ ہو،اس کا عقیقہ کرنا بھی درست نہیں ہے،  لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کی ذکر کردہ "احسن الفتاوی"کی عقیقہ کے جانور سے متعلق عبارت’’ البتہ صحتِ عقیقہ کے لیے کوئی عمر شرط نہیں، اس لیے عقیقہ ہو گیا۔‘‘  جمہور فقہائے کرام کی آراء اور کتب فتاوی کی واضح تصریحات کے مخالف ہونے کی وجہ  سے اس پر عمل کرنا درست نہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"‌وهي ‌شاة ‌تصلح ‌للأضحية تذبح للذكر والأنثى."

(كتاب الاضحية، ج:6، ط:336، ط:ايچ ايم سعيد)

بذل المجہود میں ہے:

"ثم يعق عند الحلق عقيقة إباحة على ما في "الجامع المحبوبي"، أو تطوعا على ما في "شرح الطحاوي"، وهي شاة ‌تصلح ‌للأضحية تذبح للذكر والأنثى."

(كتاب الضحايا، باب في العقيقة، ج:9، ص:605،ط:مركز الشيخ ابي الحسن الندوي للبحوث والدراسات الاسلامية،هند)

الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:

"جنسها وسنها وصفتها: هي في الجنس والسن والسلامة من العيوب مثل الأضحية، من الأنعام: الإبل، والبقر، والغنم."

(القسم الاول، الباب  الثامن، الفصل الثاني العقيقة واحكام المولود، ج:4، ص:2747، ط:دار الفكر)

تحفۃ المودو د باحکام المولود لابن قیم میں ہے:

"وفي قول النبي - صلى الله عليه وسلم -: "من ولد له مولود، فأحب أن ينسك عنه فليفعل" كالدليل على أنه إنما يجزئ فيها ما يجزئ في النسك سواها من الضحايا والهدايا. ولأنه ذبح مسنون، إما وجوبا وإما استحبابا، يجري مجرى الهدي والأضحية في الصدقة، والهدية، والأكل، والتقرب إلى الله تعالى، فاعتبر فيها السن الذي يجزئ فيهما. ولأنه شرع بوصف التمام والكمال، ولهذا شرع في حق الغلام شاتان وشرع أن تكونا مكافئتين لا تنقص إحداهما عن الأخرى، فاعتبر أن يكون سنهما سن الذبائح المأمور بها، ولهذا جرت مجراها في عامة أحكامها.

قال أبو عمر بن عبد البر: "وقد أجمع العلماء أنه لا يجوز في العقيقة إلا ما يجوز في الضحايا من الأزواج الثمانية، إلا من شذ ممن لا يعد قوله خلافا."

(الباب السادس في العقيقة واحكامها، الفصل الرابع عشر، ص:116، ط:دار ابن حزم)

فتاوی رحیمیہ میں ہے:

"جو جانور قربانی کے لائق ہوگا،وہ عقیقہ کرنے کے لائق ہوگا۔"

(کتاب الاضحیۃ، باب العقیقہ، ج:10، ص:65، ط:دارالاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144402100230

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں