بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ربیع الثانی 1442ھ- 05 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

عقیقہ میں بچہ کے بال حلق کرنے کا کیا طریقہ ہے؟


سوال

بچے کی پیدائش کے ساتویں دن بچے کے سر کے بال اتارنے کا سنت طریقہ کیا ہے؟

جواب

عقیقہ کے موقع پر بچہ کے بال صاف کرنے کا کوئی مخصوص طریقہ احادیث میں منقول نہیں کہ اسے سنت قرار دیا جائے، اور اس کے علاوہ دیگر طریقوں کو غیر مسنون قرار دیا جائے۔

نیز پہلے ذبح پھر بال مونڈنا،  یا پہلے  بال مونڈنا پھر ذبح کرنا، یا ایک ہی وقت میں دونوں عمل کرنا سب جائز ہے، البتہ  بال ذبح کے بعد مونڈوانا بہتر ہے۔

نیز بچہ کے بال مونڈوانے  کے  بعد اس کے وزن کے بقدر چاندی صدقہ کردی جائے اور  بالوں کو کسی ایسی جگہ دفن کردیا جائے جہاں راہ گزر کے پیر نہ پڑتے ہوں۔

مسند احمد میں ہے:

 حدثنا ابن نمير، قال: أخبرنا شريك، وأبو النضر قال: حدثنا شريك، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن علي بن حسين، عن أبي رافع قال: لما ولدت فاطمة حسنا قالت: ألا أعق عن ابني بدم؟ قال: " لا، ولكن احلقي رأسه ثم تصدقي بوزن شعره من فضة على المساكين أو الأوفاض " ، وكان الأوفاض ناسا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم محتاجين في المسجد، أو في الصفة، وقال أبو النضر: " من الورق على الأوفاض ـ يعني أهل الصفة ـ أو على المساكين " ففعلت ذلك، قالت: فلما ولدت حسينا فعلت مثل ذلك ( مسند القبائل، حديث ابي رافع، ٤٥ / ١٦٣، رقم الحديث: ٢٧١٨٣، ط: مؤسسة الرسالة)

تحفة المودود بأحكام المولود لابن القيم میں ہے:

الحادي عشر دفن الشعر في الأرض ولا يلقى تحت الأرجل ( الباب الثامن في ذكر تسميته وأحكامها ووقتها ، الفصل الأول في وقت التسمية ، ص: ١٠٥ ، ط: مكتبة دار البيان - دمشق)

المجموع شرح المهذب للنووي میں ہے:

وهل يقدم الحلق على الذبح فيه وجهان (أصحهما) وبه قطع المصنف والبغوي والجرجاني وغيرهم يستحب كون الحلق بعد الذبح وفي الحديث إشارة إليه (والثاني) يستحب كونه قبل الذبح وبهذا قطع المحاملي في المقنع ورجحه الروياني ونقله عن نص الشافعي والله أعلم ( باب صفة الحج، باب العقيقة، ٨ / ٤٣٣، ط: دار الفكر)۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144203200979

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں