بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1445ھ 19 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

عقیقہ کے جانور کی اوجھڑی بیچنے کا حکم


سوال

مدرسہ میں عقیقہ کے دو بکرے آئے،  اس کو باورچی اور مدرسہ کا ایک دوسرا ملازم مل کر بنا رہے تھے، اسی دوران ایک غیر مسلم جو مدرسے کے کسی دوسرے کام میں مصروف تھا اس جگہ آیا اور اس نے کہا اوجھڑی مجھے دے دینا جو قیمت ہوگی دے دوں گا،  اس  کو ایک استاد نے کہا پچاس روپیہ دے دینا اور بنانے والے دونوں ملازم سے کہا کہ تم دونوں یہ روپیہ لے لینا،  واضح رہے کہ مدرسے میں جب جانور ذبح کیا جاتا ہے تو اس کی اوجھڑی پھینک دی جاتی ہے یا گاؤں کے لوگ لے جاتے ہیں، الغرض کیا اس طرح کرنا درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ فی نفسہ حلال جانور کی اوجھڑی جائز ہے، اور اس کا بیچنا بھی جائز ہے، البتہ عقیقہ کے جانور کی کا جس طرح گوشت وغیرہ بیچنا جائز نہیں اسی طرح اوجھڑی بیچنا بھی جائز نہیں، لہذا صورتِ مسئولہ میں عقیقہ کے جانور کی اوجھڑی بیچنے کی صورت میں اس کی رقم کسی  مستحق کو دینا ضروری تھا، لہذا مدرسہ کا ملازم اور باورچی اگر مستحق ہیں تو ان کو یہ رقم دینا درست تھا، ورنہ کسی اور مستحق کو یہ رقم دینا ضروری ہے۔ 

بدائع الصنائع میں ہے: 

"وأما بيان ما يحرم أكله من أجزاء الحيوان المأكول فالذي يحرم أكله منه سبعة: الدم المسفوح، والذكر، والأنثيان، والقبل، والغدة، والمثانة، والمرارة لقوله عز شأنه: {ويحل لهم الطيبات ويحرم عليهم الخبائث} [الأعراف: ١٥٧] وهذه الأشياء السبعة مما تستخبثه الطباع السليمة فكانت محرمة."

(ج:5، ص:61، ط:سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"فإن بیع اللحم أو الجلد بہ أي بمستہلک أو بدراہم تصدق بثمنہ أي وبالدراہم فیما لو أبدلہ بہا، ولا یعطي أجر الجزار منہا؛ لأنہ کبیع؛ لأن کلا منہما معاوضۃ؛ لأنہ إنما یعطي الجزار بمقابلۃ جزرہ والبیع مکروہ، فکذا ما في معناہ کفایۃ الخ."

(ج:6، ص:328، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144502101550

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں