بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 صفر 1443ھ 18 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

عقیقہ کے جانور کی عمر


سوال

اللّه پاک نے مجھے بیٹی سے نوازا ہے، میں اس کا عقیقہ کرنا چاہتا ہوں، رشتہ دار اور غریب محلہ دار زیادہ ہیں، میں چاہتا ہوں کہ بکرے کے بجائے کٹـا یا بچھڑا ذبح کر کے اس کا گوشت بانٹ دوں، کیا عقیقہ کے لیے کٹـے یا بچھڑے جانور کا دو دانت ہونا ضروری ہے؟

جواب

واضح رہے کہ عقیقہ کے لیے جانوروں میں اُن ہی شرائط کاہوناضرروی ہے جوشرائط قربانی کے جانوروں کے لیے ہیں۔یعنی جن جانوروں کی قربانی درست ہے ان سے عقیقہ کرنابھی درست ہے۔عقیقہ اورقربانی کے لیے جانور اور ان کی عمریں مندرجہ ذیل ہیں:

۱۔بکرا وغیرہ ( چھوٹا جانور ) کی عمر ایک سال 

۲۔گائے، بیل بھیس وغیرہ کی عمر دوسال 

۳۔اونٹ کی عمر پانچ سال

اگرمذکورہ جانوروں کی عمریں متعینہ عمروں سے کم ہیں توقربانی اورعقیقہ درست نہیں۔البتہ اگر بھیڑ اوردنبہ ایک سال سے کم اور چھ مہینے سے زائد کا ہو مگر اتنا فربہ ہوکہ ایک سال کامعلوم ہوتا ہو تو اس کی قربانی وعقیقہ درست ہے۔

باقی اگر آپ بچھڑا/ کٹا ذبح کرنا چاہ رہے ہیں تو عقیقہ مسنونہ ادا ہونے کے لیے اس کی عمر دو سال ہونا ضروری ہے، اگر یقینی طور پر اس کی عمر پورے دو سال ہے، لیکن ابھی تک اس کے دو دانت نہیں آئے، (یعنی آپ کے سامنے وہ جانور پلا بڑھا ہے اور آپ کو پتا ہے کہ اس کی عمر دو سال ہوچکی ہے، یا جس سے خرید رہے ہیں وہ دین دار اور سچا شخص ہے جس کی بات پر آپ کو یقین ہے کہ وہ جانور کی عمر صحیح بتا رہا ہے) تو اس جانور کو عقیقے میں ذبح  کرنا درست ہوگا۔

ملحوظ رہے کہ اس سلسلے میں عام بیوپاری کی بات کا اعتبار نہیں ہوگا، بلکہ جانور کے دو دانت ہونا ضروری ہوگا، کیوں کہ جانور کے دو دانت اس کی مطلوبہ عمر سے پہلے نہیں آتے، ہاں یہ ممکن ہے کہ عمر پوری ہوجائے اور اب تک دانت نہ آئے ہوں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144204200919

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں