بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

عقیقہ کا شرعی حکم


سوال

عقیقہ کا حکم بتائیں!

جواب

لڑکے کی ولادت پر اگر استطاعت ہوتو    دوبکرے یا بکریاں ذبح کرنا یا بڑے جانور میں دو حصے رکھنا مستحب ہے، اور اگر دو کی وسعت نہ ہو تو ایک کا ذبح کرنا بھی کافی ہے، اور بیٹی ہو تو اس کی طرف سے ایک بکرا یا بکری یا بڑے جانور میں ایک حصہ کرنا مستحب ہے۔

اور اگر اس کی بھی وسعت نہ ہو تو جس قدر ممکن ہو اتنا صدقہ کردیں؛ کیوں کہ  عقیقہ کرنا واجب یا لازم نہیں۔

  لیکن عقیقہ اسی کو کہا جائے گا جب وہ جانور ذبح کیا جائے جو قربانی میں ذبح کیا جاتاہے، لہٰذا مرغی وغیرہ ذبح کرکے دعوت کردی یا گوشت تقسیم کردیا یا نقد رقم صدقہ کردی یا ویسے ہی بکرے یا گائے کا گوشت خرید کر کھانا بناکر کھلادیا تو یہ عقیقہ نہیں کہلائے گا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211200873

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں