بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 محرم 1446ھ 25 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

عقیقہ کےگوشت اورمدت کےمسائل


سوال

عقیقہ کے حوالہ ے معلوم کرناہےکہ عقیقہ کاگوشت کون کھا سکتا ہے اور کون نہیں؟نیزعقیقہ  کتنی مدت میں کرنا ہوتاہے؟ اوراس کےلیےمزید کیا کرناہوتاہے؟

جواب

واضح رہےکہ بچہ کی پیدائش کےساتویں،چودھویں یا اکیسویں دن عقیقہ کرنا-یعنی لڑکےکی پیدائش پردوبکریاں اورلڑکی کی پیدائش پرایک بکری ذبح کرنا-سنت ہے،اوراگرکسی نےساتویں دن سےپہلےساتویں دن کےبعدعقیقہ کیا،توعقیقہ ہوجائےگا،البتہ افضل وقت رہ جائےگا،اورعقیقہ کاگوشت قربانی کےگوشت  کی طرح خودبھی کھاسکتےہیں،اورکسی اورکوبھی دےسکتےہیں،تاہم افضل یہ ہےکہ قربانی کےگوشت کی طرح اس کےتین حصےکیےجائیں،ایک حصہ اپنےلیےرکھاجائے،اورایک اعزہ واقارب میں ،اورایک حصہ فقراء میں تقسیم کیاجائے۔

نوٹ:عقیقہ سےمتعلق مزیدتفصیل کےلیےفتوی نمبر:144105200608 ملاحظہ ہو۔

تنقيح الفتاوى الحامدية  میں ہے:

"(سئل) في العقيقة كيف حكمها وكيف تفعل؟

(الجواب) : قال في السراج الوهاج في كتاب الأضحية ما نصه مسألة العقيقة تطوع إن شاء فعلها، وإن شاء لم يفعل وهي أن يذبح شاة إذا أتى على الولد سبعة أيام وعند الشافعي ستة ثم إذا أراد أن يعق عن الولد، فإنه يذبح عن الغلام شاتين وعن الجارية شاة؛ لأنه إنما شرع للسرور بالمولود وهو بالغلام أكثر ولو ذبح عن الغلام شاة وعن الجارية شاة جاز؛ لأن «النبي - صلى الله عليه وسلم - عق عن الحسن والحسين كبشا كبشا» ولا يكون فيه دون الجذع من الضأن والثني من المعز ولا يكون فيه إلا السليمة من العيوب؛ لأنه إراقة دم شرعا كالأضحية ولو قدم يوم الذبح قبل يوم السابع أو أخره عنه جاز إلا أن يوم السابع أفضل والمستحب أن يفصل لحمها ولا يكسر عظمها تفاؤلا بسلامة أعضاء الولد ويأكل ويطعم ويتصدق."

(كتاب الذبائح،٢١٢/٢،ط:دار المعرفة)

اعلاء السنن میں ہے:

"یصنع بالعقیقة مایصنع بالأضحیة ... وفي قوله: "یأکل أهل العقیقة ویهدونها" دلیل علی بطلان ما اشتهر علی الألسن: أن أصول المولود لایأکلون منها؛ فإن أهل العقیقة هم الأبوان أولًا ثم سائر أهل البیت".

(إعلاء السنن، باب أفضلية ذبح الشاة في العقيقة، قبیل باب ما یقول الذابح عند الذبح،17/ 127،ط: إدارة القرآن)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144502101496

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں