بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 رجب 1444ھ 28 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

موبائل ایپلیکیشن پر ایڈ دیکھ كر پیسے کمانا


سوال

آج کل KG کے نام سے ایک موبائل ایپلیکیشن چل رہا جس سے لوگ پیسے کماتے ہیں جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ اپ اس میں 1000 ،2000 ، 4000 ، 8000 ، 18000 روپے deposit کرتے ہیں جس پر اپ کو روزانہ کی بنیاد پر کچھ فیس بک کے پوسٹ(ایڈ) آتے ہیں جس کو آپ نے دیکھنا ہے اور اس کے اسکرین شاٹ اپ نے ایپلیکیشن میں سبمٹ کرنے ہوتے ہیں اور اس طرح آپ کو روزانہ کی بنیاد پر پیسے آتے ہیں تو کیا اس طرح پیسے کمانا ٹھیک ہے ؟

جواب

مختلف موبائل ایپلیکیشن اور  ویب سائٹ پر ایڈ دیکھنے کو کمائی کا ذریعہ بنانا درج ذیل وجوہات کی بنا پر ناجائز ہے:

1۔ اس میں ایسے لوگ  اشتہارات کو دیکھتے ہیں  جن کایہ چیزیں لینے کا کوئی ارادہ ہی نہیں، بائع کو ایسے دیکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ دکھانا جو کہ کسی طرح بھی خریدار نہیں، یہ بیچنے والے کے ساتھ  ایک قسم کا دھوکا ہے۔

 2۔ جان دار کی تصویر  کسی بھی طرح کی ہو اس کا دیکھنا جائز نہیں؛ لہذا اس پر جو اجرت  لی جائے گی وہ بھی جائز نہ ہوگی۔

3۔ ان اشتہارات میں بسا اوقات  خواتین کی تصاویر بھی ہوتی ہیں جن کا دیکھنا بدنظری کی وجہ سے مستقل گناہ ہے۔

4۔  نیز اس معاملے میں جس طریق پر اس سائٹ کی پبلسٹی کی جاتی ہے جس میں پہلے اکاؤنٹ بنانے والے کوہر نئے اکاؤنٹ بنانے والے پر کمیشن ملتا رہتا ہے جب کہ  اس نے  اس نئےاکاؤنٹ بنوانے میں کوئی عمل نہیں کیا ، اس بلا عمل کمیشن لینے کا معاہدہ کرنا اور  اس پر اجرت لینا بھی جائز نہیں۔ شریعت میں بلا  محنت کی کمائی   کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے اور  اپنی محنت   کی کمائی   حاصل کرنے کی ترغیب ہے  اور اپنے ہاتھ کی کمائی کو افضل کمائی قراردیا ہے ، لہٰذا  حلال کمائی کے لیے کسی بھی  ایسے طریقے کو اختیار کرنا چاہیے  کہ جس میں اپنی محنت شامل ہو ایسی کمائی زیادہ بابرکت ہوتی ہے،چناں چہ مذکورہ ایپلیکیشن کے ذریعے پیسے کمانا ناجائز ہے ۔

حدیث شریف میں ہے:

" عن سعيد بن عمير الأنصاري، قال: سئل رسول الله صلّى الله عليه وسلم أي الكسب أطيب؟ قال: " عمل الرجل بيده، وكلّ بيع مبرور ".

(شعب الإيمان ،فصل في عذاب القبر،التوكل بالله عزوجل والتسليم لأمره تعالي فى كل شيئ،2/ 434، ط: الرشد )

ترجمہ:آپ ﷺ سے پوچھا گیا  کہ سب سے پاکیزہ کمائی کو ن سی ہے؟تو آپ ﷺنے فرمایا کہ  آدمی کا  خود  اپنے ہاتھ سے محنت کرنا اور ہر جائز اور مقبول بیع۔

فتاوی شامی میں ہے :

"هي لغة: اسم للأجرة وهو ما يستحق على عمل الخير ولذا يدعى به، يقال أعظم الله أجرك. وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين بزازية"

(كتاب الإجارة ،6/ 4،ط: سعيد) 

وفیہ ایضا :

"(أو) استأجر (خبازا ليخبز له كذا) كقفيز دقيق (اليوم بدرهم) فسدت عند الإمام لجمعه بين العمل والوقت ولا ترجيح لأحدهما فيفضي للمنازعة (قوله فيفضي للمنازعة) فيقول المؤجر المعقود عليه: العمل والوقت ذكر للتعجيل ويقول المستأجر: بل هو الوقت والعمل للبيان". 

(كتاب الاجارة ، مطلب فى الإستئجار على المعاصى ،6/ 56،ط: سعید)

الموسوعہ الفقہیہ الکویتیہ  میں ہے :

"الإجارة على المنافع المحرمة كالزنى والنوح والغناء والملاهي محرمة، وعقدها باطل لايستحق به أجرة . ولايجوز استئجار كاتب ليكتب له غناءً ونوحاً؛ لأنه انتفاع بمحرم ... و لايجوز الاستئجار على حمل الخمر لمن يشربها، ولا على حمل الخنزير".

(إجارة ، الفصل السابع ،الإجارة على المعاصى والطاعات ،1/ 290،ط:دارالسلاسل )

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144402100808

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں