بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 ذو الحجة 1442ھ 02 اگست 2021 ء

دارالافتاء

 

آپ ﷺ کا حضرت اسماعیل علیہ السلام تک شجرہ نسب اور سلسلہ نسب میں انبیاء کرام کی تعداد


سوال

شجرہ نسب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت اسماعیل علیہ السلام سے حضرت محمد ﷺ تک کتنے انبیاء ہیں؟

 

جواب

سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا سلسلہ نسب تمام عالم کے سلاسلِ انساب سے اعلیٰ وبرترہے، اور وہ سلسلہ نسب یہ ہے:

محمدبن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف بن قصی بن کلاب بن مرۃ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہربن مالک بن النضربن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزاربن معدبن عدنان۔(بخاری )

’’عدنان‘‘  تک سلسلہ نسب تمام نسابین کے نزدیک مسلم ہے،  کسی کا اس میں اختلاف نہیں، اور عدنان کا حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سےہونا بھی  سب کے نزدیک مسلم ہے۔اختلاف اس میں ہے کہ عدنان سے حضرت اسماعیل علیہ السلام تک کتنی پشتیں ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب نسب شریف بیان فرماتے تھے تو عدنان سے تجاوز نہ فرماتے، عدنان تک پہنچ کر رک جاتے اور یہ فرماتے"كذب النسابون"(نسب والوں نے غلط کہا) یعنی ان کو تحقیق نہیں، جو کچھ کہتے ہیں وہ بے تحقیق کہتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پہلے یہ آیت تلاوت فرماتے: {وَعَادًا وَّ ثَمُوْدَ وَ الَّذِیْنَ مِنْ بَعْدِهِمْ لَایَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللهُ} (ترجمہ:  عاد اور ثمود اور ان کے بعد کی قومیں ان کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں)،اور پھر یہ فرماتے "کذب النسابون" (نسب دان غلط کہتے ہیں) یعنی نسابین کا یہ دعوی کہ ہم  کوتمام انساب کا علم ہے، بالکل غلط ہے، اللہ کے سوا کسی کو علم نہیں۔

علامہ سہیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ کسی  شخص کا اپنے نسب کو آدم علیہ السلام تک پہنچانا کیسا ہے؟تو  نا پسند فرمایا۔ سائل نے پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام تک سلسلہ نسب پہنچانے کے متعلق دریافت کیا تو اس کوبھی نا پسند فرمایا اور یہ کہا"من يخبره به"؟  کس نے اس کو خبر دی؟  (ماخوذ از سیرۃ مصطفی)

اس ساری تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ رسول اللہ ﷺ کا نسب شریف معد بن عدنان سے آگے حضرت آدم علیہ السلام تک کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے، بلکہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فرامین میں اسے بیان کرنے کی ناپسندیدگی اور ممانعت ہے؛ لہٰذا اسے بیان کرنا بھی درست نہیں ہے، اسی طرح حضرت اسماعیل علیہ السلام سے آپ ﷺ کے درمیان مبعوث ہونے والے انبیاء کی تعداد بھی معلوم نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108200405

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں