بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1445ھ 22 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

اپنی چیز بیچ کر اسے ادھار پر خریدنا


سوال

خالد کو پیسوں کی ضرورت تھی اور اس کے پاس ایک موبائیل تھا تو خالد نے وہ موبائیل دکاندار پر نقد 20000 روپے میں فروخت کیا ۔پھر خالد ایک دوست کو اپنے ساتھ دکاندار کے پاس لے آیا اور دکاندار کو کہا کہ یہ میرا دوست ہے اس کو موبائیل قسطوں پر  چاہیے، لیکن دوکاندار نے کہا کہ میں اس کو نہیں جانتا؛  لہذا میں اس کو  ادھار نہیں دے سکتا تو  خالد نے دوکاندار کو کہا کہ یہ میرا دوست ہے اور میں اس کا ذمہ دار ہوں اور اس کی قسطیں میں جمع کروں گا تو دکاندار نے وہ موبائیل خالد کے دوست کو 25 ہزار روپے میں قسط وار فروخت کیا بعد میں دوکاندار کو پتہ چلا کہ وہ موبائیل خالد نے واپس لیا صرف سود سے بچنے  کے لیے یہ چال چلائی، اس طرح اس کو نقد 20000 مل گئے اور وہ دکاندار کو قسط وار  25000 دے گا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کرنا خالد  کے لیے جائز ہے؟ دوکاندار کو پتہ چلنے کے بعد دوکاندار کا اس سے 25 ہزار لینا جائز ہے؟ کیا اس طریقے سے خالد وکیل بن کر بیع عینہ سے بچ سکتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر  دکاندار واقعۃ اس بات سے ناواقف تھاکہ خالد سود سے بچنے کے لیے یہ معاملہ کر رہاہے،تو اس کا نفع لینا جائز ہے اور خالد کایہ عمل بھی جائز ہے، یہ معاملہ بیع عینہ میں سے نہیں ہے، تاہم اگر دکاندار اور خالد کے درمیان پہلے سے یہ معاہدہ ہوا تھا، تو یہ معاملہ ناجائز ہوگا، دکاندار کا نفع لینا بھی جائز نہیں ہوگا۔

  فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: في بيع العينة) اختلف المشايخ في تفسير العينة التي ورد النهي عنها. قال بعضهم: تفسيرها أن يأتي الرجل المحتاج إلى آخر ويستقرضه عشرة دراهم ولايرغب المقرض في الإقراض طمعًا في فضل لايناله بالقرض فيقول: لاأقرضك، ولكن أبيعك هذا الثوب إن شئت باثني عشر درهمًا وقيمته في السوق عشرة ليبيعه في السوق بعشرة فيرضى به المستقرض فيبيعه كذلك، فيحصل لرب الثوب درهمًا وللمشتري قرض عشرة. وقال بعضهم: هي أن يدخلا بينهما ثالثًا فيبيع المقرض ثوبه من المستقرض باثني عشر درهما ويسلمه إليه ثم يبيعه المستقرض من الثالث بعشرة ويسلمه إليه ثم يبيعه الثالث من صاحبه وهو المقرض بعشرة ويسلمه إليه، ويأخذ منه العشرة ويدفعها للمستقرض فيحصل للمستقرض عشرة ولصاحب الثوب عليه اثنا عشر درهما، كذا في المحيط، وعن أبي يوسف: العينة جائزة مأجور من عمل بها، كذا في مختار الفتاوى هندية. وقال محمد: هذا البيع في قلبي كأمثال الجبال ذميم اخترعه أكلة الربا. وقال عليه الصلاة والسلام: «إذا تبايعتم بالعينة واتبعتم أذناب البقر ذللتم وظهر عليكم عدوكم»."

(کتاب البیوع، باب الصرف، ج:5،  ص:273،  ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144411102106

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں