بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو القعدة 1445ھ 18 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

صاحب نصاب بہن کو زکات دینے کا حکم


سوال

میری بہن ڈائیلسز   کی مریض ہے،2009 سے اس  کی ڈائیلسز   ہورہی ہے،پہلے سرکاری اسپتال میں ڈائیلسز   ہوتی تھی،  اب  پرائیویٹ ہسپتال    میں اس  کی ڈائیلسز   ہورہی ہے،اس   ہسپتال میں خرچہ بہت زیادہ ہے اور اس  کا شوہر بالکل بھی خرچہ نہیں کرتاہے، ہم بہن بھائی اس  کا علاج کروا رہے ہیں ہر سال    ڈائیلسز   سے الگ  مختلف آپریشنز کی مد میں   لاکھ ڈیڑلاکھ کا خرچہ ہو جا تا ہے  اور ہم بہن بھائی بھی اتنا خرچہ نہیں کر سکتے ۔میں شروع سےاپنی زکوٰۃ اس کے علاج پر خرچ کرتی ہوں ،2016 میں اس بہن کو وراثت ملی چار لاکھ روپے اور اس نے ان پیسوں کو کاروبار میں لگادیا اور وہ جو منافع آتا ہے وہ بھی اس  کے علاج میں خرچ ہوتا ہے، اب بیماری کا خرچہ اتنا زیادہ ہے   کہ  اس کا خرچہ پورا نہیں ہوتا، اس  لیے ہمیں بھی خرچہ کرنا پڑتا ہے، سوال   یہ ہے کے ہماری زکوٰۃ کی مد میں اس کو پیسے دینا صحیح ہے؟

جواب

صورت  مسئولہ  میں  اگر  سائلہ  کی  بہن   کے  ملکیت  میں     چار  لاکھ  کی  رقم    ابھی  بھی  موجود  ہے  (چاہے  اپنے  پاس  ہو  یا  کاروبار  میں  لگی  ہوئی  ہو)    تو    سائلہ  کی  بہن  کو  زکات  دینا  جائز  نہیں  ،کیونکہ    زکاۃ  اس شخص کو دی جاسکتی ہے  جس کی ملکیت میں اس کی ضرورتِ  اصلیہ سے زائد  نصاب   (یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی) کے برابر  رقم نہ ہو، اور نہ ہی  اس  قدر ضرورت و استعمال سے زائد  سامان ہو کہ جس کی مالیت نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) کے برابر بنتی ہو،اور مذکورہ رقم نصاب سے زائد ہے۔

فتاوی  عالمگیری  میں  ہے:

"لايجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصاباً أي مال كان، دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضاً للتجارة أو لغير التجارة، فاضلاً عن حاجته في جميع السنة، هكذا في الزاهدي. والشرط أن يكون فاضلاً عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه، ولا يشترط النماء؛ إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان، كذا في الكافي. ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحاً مكتسباً، كذا في الزاهدي ... ولا يدفع إلى بني هاشم، وهم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل الحارث بن عبد المطلب، كذا في الهداية. ويجوز الدفع إلى من عداهم من بني هاشم كذرية أبي لهب؛ لأنهم لم يناصروا النبي صلى الله عليه وسلم،كذا في السراج الوهاج".

(كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف، ج:1، ص:187، ط:دار الفكر بيروت وغيرها)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144410101630

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں