بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

اپنے بہنوئی کی پہلی بیوی کی بیٹیوں میں سے کسی کے ساتھ نکاح کا حکم


سوال

 میری بڑی بہن کی ایک جگہ شادی ہوئی ہے، میرے بہنوئی نے اس سے پہلے 3 شادیاں کی تھیں، جن کی اولاد موجود ہے لیکن وہ تینوں بیویاں موجود نہیں، اب میں اپنے بہنوئی کی پہلی بیوی کی بیٹیوں میں سے کسی کے ساتھ نکاح کر سکتا ہوں؟

جواب

واضح رہے کہ بہنوئی کی وہ اولاد جو  آپ کی ہمشیرہ کے بطن سے نہیں ہے،وہ آپ پر حرام نہیں ہے، ان سے آپ کا نکاح کرنا شرعاًجائز ہے۔

فتح القدیر میں ہے:

"(ولا بأس بأن يجمع بين امرأة وبنت زوج كان لها من قبل) لأنه لا قرابة بينهما ولا رضاع....

(قوله لأنه لا قرابة بينهما ولا رضاع) يعني أن الموجب لاعتبار ذلك الأصل وهو حرمة الجمع بين امرأتين لو كانت كل منهما ذكرا حرمت عليه الأخرى هو قيام القرابة المفترض وصلها أو الرضاع المفترض وصل متعلقه واحترامه، حتى لا يجوز أن يجمع بين أختين من الرضاع أو عمة أو خالة وابنة أخ أو أخت من الرضاع.

وكذا كل محرمية بسبب الرضاع، وكلاهما منتف في الربيبة وزوجة الأب فكان تحريم الجمع بينهما قولا لا بدليل. وهذه أعني مسألة الجمع بين الربيبة وزوجة أبيها مما اتفق عليه الأئمة الأربعة، وقد جمع عبد الله بن جعفر بين زوجة علي وبنته ولم ينكر عليه أحد من أهل زمانه وهم الصحابة والتابعون، وهو دليل ظاهر على الجواز، أخرجه الدارقطني عن قثم مولى ابن عباس قال: تزوج عبد الله بن جعفر بنت علي وامرأة علي، وذكره البخاري تعليقا"

(کتاب النکاح، فصل فی بیان المحرمات، 3/ 209، ط: دارالکتب العلمیۃ بیروت)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144509101301

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں