بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 رجب 1444ھ 03 فروری 2023 ء

دارالافتاء

 

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن سے متعلق ایک روایت کی تحقیق


سوال

میں نے ایک روایت سنی ہے کہ:

"  ایک دفعہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ : یا رسول اللہ!  حضرت یوسف علیہ السلام تو بہت خوب صورت تھے اور آپ تو سید الانبیاء ہیں،  پھر آپ ان جیسے  کیوں نہیں؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:  اللہ نے میرے  چہرے پر ستر حجاب  لگا رکھے ہیں اور یہ کہہ  کر ایک حجاب ہٹا دیا تو پورا کمرہ منور ہو گیا، اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ:  واللہ آپ ان سے بھی زیادہ خوب صورت ہیں۔  "

میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کی کوئی روایت کتبِ  حدیث میں موجود ہے؟ اور اس کی کیا حقیقت ہے؟

جواب

یہ بات تو حقیقت ہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم    اللہ تعالیٰ کی مخلوق   میں سب سے زیادہ صاحبِ کمال اور  صاحب ِجمال تھے ، یعنی: آپ کے اعضا ئے مبارکہ اور جسم مبارک کا ہر ہر جز   وحصہ،  ساخت وپرداخت وغیرہ میں سب سے زیادہ اعتدال تھا  اور اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت یوسف علی نبینا وعلیہ الصلاة والسلام دونوں مخلوقِ  خدا  میں سب سے زیادہ خوب صورت تھے،  البتہ دونوں میں سب سے زیادہ خوب صورت   رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم تھے، جس کی دلیل ”شمائلِ ترمذی“  کی روایت ہے جو مندرجہ ذیل ہے:

"عن قتادة قال : ما بعث الله نبيًّا إلا حسن الوجه، حسن الصوت، و كان نبيكم صلى الله عليه وسلم حسن الوجه، حسن الصوت، و كان لايرجع."

(الشمائل المحمدية للترمذي ، باب ما جاء في قراءة رسول الله صلى الله عليه وسلم، رقم الحدیث:320، ص:267، ط:مؤسسۃ الکتب الثقافۃ)

ترجمہ: حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اللہ تعالی نے جس نبی کو بھی مبعوث فرمایا، وہ خوب صورت اور بہترین آواز والا تھا اور تمہارا نبی ان سب میں سب سے زیادہ خوب صورت اور سب سے اچھی آواز والا ہے۔

جس کی تائید حضرت عائشہکے اس شعر سے بھی ہوتی ہے کہ جس میں آپ  نے فرمایا: حضرت یوسف علیہ السلام کا حسن دیکھ کر عورتوں نے اپنی انگلیاں کاٹ لی تھیں، اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن وجمال دیکھ لیتیں تو اپنے دل کاٹ لیتیں، اور بعض کتابوں میں یہ حکایت ہے کہ اللہ تعالیٰ  نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے  چہرے پر ستر حجاب لگا رکھے ہیں اور یہ کہ اگر ایک حجاب ہٹا دیاگیا تو  دیکھنے والوں کو دیکھنے کی طاقت ہی نہ رہے، البتہ اس طرح کوئی روایت نہیں ملی جیساکہ مرقاۃ المفاتیح میں مذکور ہے۔

باقی سوال میں ذکر کردہ الفاظ کے ساتھ روایت یعنی کہ "حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حسن کے متعلق سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا  کہ اللہ نے میرے چہرے پر ستر حجاب لگا رکھا ہے اور یہ کہہ کر ایک حجاب ہٹا دیا تو پورا کمرہ منور ہو گیا، اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ واللہ آپ ان سے بھی زیادہ خوبصورت ہیں" کسی بھی معتبر اور مستند کتاب میں نہیں ملی۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"(قد أعطي شطر الحسن) ، قال المظهر أي: نصف الحسن. أقول: وهو محتمل أن يكون المعنى نصف جنس الحسن مطلقًا، أو نصف حسن جميع أهل زمانه. و قيل: بعضه لأن الشطر كما يراد به نصف الشيء قد يراد به بعضه مطلقًا. أقول: لكنه لايلائمه مقام المدح و إن اقتصر عليه بعض الشراح، اللهم إلا أن يراد به بعض زائد على حسن غيره، و هو إما مطلق فيحمل على زيادة الحسن الصوري دون الملاحة المعنوية لئلايشكل نبينا صلى الله عليه وسلم و إما مقيد بنسبة أهل زمانه و هو الأظهر، و كان الطيبي -رحمه الله- أراد هذا المعنى، لكنه أغرب في المبنى حيث عبر عنه بقوله: وقد يراد به الجهة أيضًا نحو قوله تعالى: {فول وجهك شطر المسجد الحرام} [البقرة: 144] أي إلى جهة من الحسن ومسحة منه، كما قال: على وجهه مسحة ملك ومسحة جمال. أي: أثر ظاهر، و لايقال ذلك إلا في المدح اهـ. وغرابته مما لا تخفى على ذوي النهى، هذا وقد قال بعض الحفاظ من المتأخرين، وهو من مشايخنا المعتبرين: أنه صلى الله عليه وسلم كان أحسن من يوسف عليه السلام إذ لم ينقل أن صورته كان يقع من ضوئها على جدران ما يصير كالمرآة يحكي ما يقابله، و قد حكي عن صورة نبينا صلى الله عليه وسلم، لكن الله تعالى ستر عن أصحابه كثيرًا من ذلك الجمال الباهر، فإنه لو برز لهم لم يطيقوا النظر إليه كما قاله بعض المحققين، و أما جمال يوسف عليه السلام فلم يستر منه شيء اهـ.

و هو يؤيد ما قدمناه من أن زيادة الحسن الصوري ليوسف عليه الصلاة و السلام، كما أن زيادة الحسن المعنوي لنبينا صلى الله عليه وسلم مع الاشتراك في أصل الحسن على أنه قد يقال: المعنى أعطي شطر حسني."

(کتاب المناقب، باب المعراج، ج:9، ص:3766، ط:دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144301200077

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں