بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 رجب 1444ھ 31 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی کیفیت


سوال

حضور ﷺ کی محفل میں جب کوئی بات کرتاتو آپ ﷺ کیا کہہ کر خاموش کراتے؟

جواب

نبی کریم ﷺکی مجلس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تشریف فرما ہونے کی مختلف صورتیں ہوا کرتی تھیں:

اگر نبی کریم ﷺ کی جانب سے اجازت ہوتی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم گفتگو بھی فرماتے، لیکن اس گفتگو میں بھی آپ ﷺ کی تعظیم و تکریم کا لحاظ ہوتا، نیز آپ ﷺ کی اجازت سے آپ کی مجلس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اشعار بھی سناتے اور بسا اوقات بعض قصے بھی بیان ہوتے۔ البتہ جب نبی کریم ﷺ گفتگو فرماتے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خاموش ہوجایا کرتے تھے، بالخصوص آں حضرت  ﷺ کی وعظ و نصیحت کی مجلس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم غایتِ ادب و احترام اور خاموشی کے ساتھ تشریف فرماہوتے تھے، اور کسی بھی ایسے عمل سے مکمل اجتناب برتتے تھے جس میں ذرہ برابر بے ادبی کا شائبہ موجود ہو۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پیغمبر ﷺ کی موجودگی میں اونچی آواز سے بات کرنے کو  خلافِ ادب گردانتے تھے، اس لیے آپ ﷺ کی مجلس میں ان مقدس نفوس کے بیٹھنے کی منظر کشی یوں کی گئی ہے کہ یہ حضرات آپﷺ کی مجلس میں یوں بے حس و حرکت تشریف فرما ہوتے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔

اور اگر کوئی بات دریافت بھی کرنی ہوتی تو اس میں رسول اکرم ﷺ کے مقام کو ملحوظ رکھتے اور الفاظ کے چناؤ میں بھی حد درجہ احتیاط فرماتے تھے، اس لیےصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ حضور اکرم ﷺ کی مجلس میں ان سے باہمی گفتگو یا مجلس کے آداب کے خلاف کوئی ایسا امر سرزد ہوتا ہو جس کی بنا پر انہیں خاموش کرانے کی ضرورت محسوس ہوئی ہو۔ ایسی کوئی روایت ہمیں نہیں ملی۔

سنن النسائي -(4 / 78):

"عن البراء قال : خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في جنازة فلما انتهينا إلى القبر ولم يلحد فجلس وجلسنا حوله كأن على رؤوسنا الطير".

ترجمہ :حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم لوگ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم راہ نکلے ایک جنازہ میں، جس وقت قبر تک پہنچے تو قبر تیار نہیں ہوئی تھی، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور ہم لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب بیٹھ گئے، (جیسے کہ) ہم لوگوں کے سروں پر پرندے تھے۔ (مطلب یہ ہے کہ ہم لوگ باادب ہو کر خاموش طریقہ سے بیٹھ گئے)۔

حاشية السيوطي والسندي على سنن النسائي - (3 / 257):

"( كأن على رءوسنا الطير) كناية عن السكون والوقار؛ لأنّ الطير لايكاد يقع إلا على شيء ساكن.

(قوله: وجلسنا حوله كأنّ على رءوسنا الطير)

قال في النهاية: معناه وصفهم بالسكون والوقار وأنهم لم يكن فيهم طيش ولا خفة؛ لأن الطير لاتكاد تقع إلا على شيء ساكن".

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح - (9 / 3914):

"(وعن أنس، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا دخل المسجد لم يرفع أحد) أي: من الصحابة (رأسه) أي: رأس نفسه لهيبة مجلسه ورعاية الأدب حال انبساطه وأنسه، وأبعد شارح حيث قال أي: رأس النبي صلى الله عليه وسلم لاشتغاله بذكر الله تعالى (غير أبي بكر وعمر) ، بالرفع على البدلية من أحد، وفي نسخة بالنصب على الاستثناء (كانا يتبسمان إليه ويتبسم إليهما)، استئناف بيان والتبسم مجاز عن كمال الانبساط فيما بينهم. (رواه الترمذي، وقال: هذا حديث غريب) . وفي " الرياض "، عن أنس: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يخرج على أصحابه من المهاجرين والأنصار وهم جلوس، فلا يرفع إليه أحد منهم بصره إلا أبا بكر وعمر، فإنهما كانا ينظران إليه، وينظر إليهما ويتبسمان إليه ويتبسم إليهما أخرجه أحمد والترمذي وقال: غريب، والمخلص الذهبي والحافظ الدمشقي. وعن أبي هريرة قال: كنا نجلس عند النبي كأن على رءوسنا الطير ما يتكلم أحد منا إلا أبو بكر وعمر".

سنن الترمذي -(5 / 139):

"عن أنس : أن النبي صلى الله عليه و سلم دخل مكة في عمرة القضاء و عبد الله بن رواحة بين يديه يمشي وهو يقول:

(خلوا بني الكفار عن سبيله                 اليوم نضربكم على تنزيله)

(ضربًا يزيل الهام عن مقيله               ويذهل الخليل عن خليله)

فقال له عمر: يا ابن رواحة بين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم وفي حرم الله تقول الشعر! فقال له النبي صلى الله عليه و سلم: خلّ عنه يا عمر، فلهي أسرع فيهم من نضح النبل.

 قال أبوعيسى: هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه، و قد روى عبد الرزاق هذا الحديث أيضًا عن معمر عن الزهري عن أنس نحو هذا، وروي في غير هذا الحديث أنّ النبي صلى الله عليه و سلم دخل مكة في عمرة القضاء و كعب بن مالك بين يديه، و هذا أصحّ عند بعض أهل الحديث؛ لأنّ عبد الله بن رواحة قتل يوم مؤتة وإنما كانت عمرة القضاء بعد ذلك."

سنن الترمذي - (5 / 140):

"عن جابر بن سمرة قال: جالست النبي صلى الله عليه و سلم أكثر من مائة مرة فكان أصحابه يتناشدون الشعر ويتذاكرون أشياء من أمر الجاهلية وهو ساكت فربما تبسم معهم."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144203200095

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں