بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

اوہان نام رکھنا


سوال

اوہان نام کیسا ہے؟

جواب

تلاش کے بعد مذکورہ تلفظ کے ساتھ اس لفظ کا معنی نہیں مل سکا، البتہ اس کے اصل مادہ وهن کے معنی کمزور ہونے، یا نصف رات کے گزر جانے کے ہیں، جبکہ بچوں کے نام رکھنے میں اصل یہ ہے کہ ایسے نام رکھے جائیں جو اللہ اور اس کے رسول کے پسندیدہ ناموں میں سے ہوں، یا انبیاء کرام، صحابہ کرام اور صحابیات کے ناموں میں سے ہوں یا وہ ایسے بامعنی نام ہوں جو عموماً مسلمانوں میں رکھے جاتے ہوں، اور اوہان نام میں مذکورہ صفات نہیں پائی جاتیں، نیز اصل مادہ کے اعتبار سے بھی اس کا معنی اچھا نہیں ہے، لہذا مذکورہ نام نہ رکھنا بہتر ہے۔ 

مختار الصحاح میں ہے:

"(‌الوهن) الضعف وقد (وهن) من باب وعد و (وهنه) غيره يتعدى ويلزم. و (وهن) بالكسر يهن (وهنا) لغة فيه. و (أوهنه) غيره و (وهنه توهينا) . و (‌الوهن) و (الموهن) نحو من نصف الليل، قال الأصمعي: هو حين يدبر الليل".

(وهن، ص:346، ط:المكتبة العصرية) 

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"أحب الأسماء إلى الله تعالى عبد الله وعبد الرحمن لكن التسمية بغير هذه الأسماء في هذا الزمان أولى لأن العوام يصغرون هذه الأسماء للنداء والتسمية باسم يوجد في كتاب الله تعالى كالعلي والكبير والرشيد والبديع جائزة لأنه من الأسماء المشتركة ويراد في حق العباد غير ما يراد في حق الله تعالى كذا في السراجية.

وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لا يفعل كذا في المحيط."

(کتاب الکراهية، الباب الثاني والعشرون في تسمية الأولاد وكناهم والعقيقة، ج:5، ص:362، ط:رشيدية)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144506101340

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں