بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو الحجة 1445ھ 22 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

آفس کے اخراجات کے لئے قرض پر سروس چارجز لینے کا حکم؟


سوال

 ایک شخص بڑا مالدار ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ لوگوں کی خدمت کریں،اس کے پاس مال بہت ہے  لہذا وہ چاہتا ہے کہ کچھ لوگوں کو ایک آفس میں بٹھا کر، انکی تنخواہ مقرر کرے،اور جن لوگوں کو قرض کی ضرورت ہو وہ ان بندوں سے رابطہ کرے، وہ ان کو قرضہ دیدینگے،اور ساتھ ہی قرض دار کودوشرطیں قبول کرنی ہونگیں،ایک یہ کہ قرضہ صرف ایک ہفتے کیلیے ملےگا اور اور قرضہ کی جتنی رقم ہوگی وہ جب لوٹائےگا تو  پانچ فیصد سروس چارجز دیگا-اب کیا اس کیلئے قرضہ سے بڑھ کر پانچ فیصد لینا؛ تاکہ وہ ان لوگوں کی تنخواہ دے پائے اور ساتھ ہی اس آفس کا کرایہ اور باقی اخراجات نکالیں ،کیا اس کے لیے یہ پانچ فیصد صحیح ہوگا اور اس قرضہ کا کیا حکم ہے؟

جواب

آفس کے اخراجات وانتظامات کے لئے قرضہ پر پانچ فیصد سروس چارجز  لینا سود ہے؛ اس لئے  ایسا قرضہ جائز نہیں۔

"وفي الخلاصة: القرض بالشرط حرام ، والشرط لغو بأن يقرض على أن يكتب به إلى بلد كذا ليوفي دينه،  وفي الأشباه:  كل قرض جر نفعا حرام".

(وفي رد المحتار:)   " قوله: ( كل قرض جر نفعا حرام) أي: إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر وعن الخلاصة وفي الذخيرة".

(الدر المختار مع رد المحتار: كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، فصل في القرض (5/ 166)، ط. سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144405101441

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں