بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

انزیلہ نام رکھنا


سوال

(Anzila) میں نے اپنی بیٹی کا نام انزیلہ رکھا ہے کیا یہ صحیح ہے؟

جواب

عربی زبان میں انزیلہ کا  لفظ  نہیں ملتا، لہذا یہ نام نہ رکھا جائے، اس کے بجائے صحابیات رضوان اللہ علیہن کے ناموں میں سے کسی نام کا انتخاب کرلیا جائے، یا  عمدہ معانی کے ناموں میں سے کوئی نام رکھ لیا جائے،  اچھے ناموں کے انتخاب کے لیے دیکھیے: اسلامی نام

المحيط البرهاني في الفقه النعمانيمیں ہے:

"روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «سموا أولادكم أسماء الأنبياء وأحب الأسماء إلى الله تعالى؛ عبد الله، وعبد الرحمن» قال الفقيه أبو الليث: لا أحب للعجم أن يسموا عبد الرحمن عبد الرحيم؛ لأن العجم لا يعرفون تفسيره، فيسمونه بالتصغير، وروي عن النبي عليه السلام: أنه نهى أن يسمى المملوك نافعا أو بركة، أو ما أشبه ذلك، قال الراوي:؛ لأنه لم يحب أن يقال: ليس ههنا بركة، ليس ههنا نافع إذا طلبه إنسان، وفي الأثر: «لا يقول الرجل عبدي وأمتي، بل يقول: فتاي وفتاتي» .

وفي «الفتاوى» : التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في كتابه ولا ذكره رسول الله عليه السلام، ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه، والأولى أن لا تفعل."

( كتاب الاستحسان والكراهية، الفصل الرابع والعشرون في تسمية الأولاد وكناهم، ٥ / ٣٨٢، ط: دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144508102355

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں