بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 صفر 1443ھ 19 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

آنکھ پر چوٹ لگے جانور کی قربانی کا حکم


سوال

جانور کی آنکھ میں چوٹ لگنے کی وجہ سے آنکھ سے پانی گر رہا ہو  تو قربانی ہوگی کہ نہیں؟

جواب

اگر چوٹ لگنے کی وجہ جانور کی بینائی(نظر) ختم نہیں ہوئی ، مکمل  برقرار ہے، یا دو تہائی نظر باقی ہے تو اس کی قربانی درست ہے۔ اور اگر چوٹ کی وجہ سےمکمل نظر یا ایک تہائی سے زیادہ نظر  ختم  ہوگئی ہے تو  اس جانور کی قربانی درست نہیں۔

"و أما الذي يرجع إلى محل التضحية فنوعان: أحدهما سلامة المحل عن العيوب الفاحشة؛ فلاتجوز العمياء."

(بدائع الصنائع: كتاب التضحية (5/ 75)،ط.  دار الكتاب العربي، سنة النشر 1982)

تبيين الحقائق میں ہے:

قال - رحمه الله -: (لا بالعمياء والعوراء والعجفاء والعرجاء) ... ثم معرفة مقدار الذاهب والباقي متيسر في غير العين، وفي العين قالوا يشد عينها المعيبة بعد أن جاعت ثم يقرب العلف إليها قليلا قليلا فإذا رأته في موضع علم ذلك الموضع ثم يشد عينها الصحيحة، ويقرب العلف إليها شيئا فشيئا حتى إذا رأته من مكان علم عليه ثم ينظر ما بينهما من التفاوت فإن كان نصفا أو ثلثا أو غير ذلك فالذاهب هو ذلك القدر.

(تبيين الحقائق: كتاب الاضحية (6/ 5، 6)،ط.المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة، الطبعة: الأولى، 1313 هـ)

فقط، واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211201536

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں