بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1443ھ 05 دسمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

انحا نام رکھنا


سوال

"انحا"  نام کا معنیٰ بتا دیں اور  اس  سے متعلق تفصیل  درکار  ہے!

جواب

اگر اس لفظ کو "اَنحا"  لکھا جائے تو اس  کا معنیٰ ہے: تکلیف  اور بیماری کی وجہ سے حلق سے  نکلنے والی آواز۔

اور اگر اس کو "اَنحاء" لکھا جائے تو اس کا معنیٰ ہو گا: انواع، اقسام، اطراف اور جہات۔ 

اور اگر اس کو "اَنھیٰ" لکھا جائے تو اس کا معنی ہو گا: منع کرنا۔

اور اگر اس کو "اَنھاء" لکھا جائے تو اس کا معنیٰ ہو گا: پانی جمع ہونے کی جگہ۔

عربی کا ایک  لفظ "النُّهِيَّة" بھی ہے، اس کا معنی ہے: عقل، لیکن اس مادے سے عربی زبان میں "اَنھی" استعمال ہونا ،  کتبِ لغت میں نہیں ملا۔

نام رکھنے کے اعتبار سے یہ  مناسب معنیٰ نہیں ہے؛ اس لیے    اس کے  بجائے  صحابیات رضوان الله عليهم اجمعين   کے ناموں کو ترجیح دی جائے  یا دوسرے اچھے بامعنی نام کا انتخاب کرلیا جائے، ہماری ویب سائٹ پر اچھے بامعنی نام موجو د ہیں،اس سے آپ نام  کا انتخاب کرسکتے ہیں،اس کا لنک درج ذیل ہے:

اسلامی نام

لسان العرب (2/ 404):

 "( أنح ) أَنَحَ يَأْنِحُ أَنْحاً وأَنِيحاً وأُنُوحاً وهومثل الزَّفِيرِ يكون من الغم والغضب والبِطْنَةِ والغَيْرَةِ."

تاج العروس من جواهر القاموس (6/ 295):

"أنح : ( *!أنح *!يأنح ) من حد ضرب ( *!أنحا ) ، بالتسكين ، ( *!وأنيحا *!وأنوحا ) ، الأخير بالضم ، إذا تأذى و ( زحر من ثقل يجده من مرض أو بهر ) ، بالضم ، كأنه يتنحنح ولا يبين."

القاموس المحيط (ص: 271):

" أنَحَ يأْنَحُ أنْحاً وأنِيحاً وأُنوحاً : زَحَرَ من ثِقَلٍ يَجِدُهُ من مَرَضٍ أو بُهْرٍ وهو آنِحٌ."

تهذيب اللغة (2/ 192، بترقيم الشاملة آليا):

" أنح : قال الليث: أنح يأنح أنيحاً إذا تأذى من مرضٍ أو بَهْرٍ يَتَنَحْنَحُ فلا يَئِنُّ."

«تاج العروس» (40/ 41):

"«‌‌نحو: (و ( {النحو: الطريق.

(و) أيضا: (الجهة) . يقال:} نحوت {نحو فلان، أي جهته؛ (ج} ‌أنحاء."

«تاج العروس» (40/ 45):

"«النحو: بمعنى المثل، وبمعنى المقدار، وبمعنى القسم.وقالوا: هو على ثلاثة} ‌أنحاء»."

«معجم متن اللغة» (5/ 419):

"النحو: القصد "مصدر؛ ويكون ظرفا. وأصله المصدر". و-: الطريق والجهة ج ‌أنحاء ونحو. و-: المثل والمقدار والقسم."

«الغريبين في القرآن والحديث» (6/ 1902):

«‌‌(نهى)

قوله تعالى: {لأولي النهى} أي لذوي العقول الواحد نهية لأنه ينتهي بها عن القبائح وقيل لأنه ينتهي إلى رأيه واختياره لعقله»."

«تاج العروس» (40/ 150):

"وفي الحديث: أنه أتى على  {نهي من ماء، ضبط بالكسر والفتح، هو الغدير (أو شبهه) ، وهو كل موضع يجتمع فيه الماء، أو الذي له حاجز} ينهى الماء أن يفيض منه، (ج أنه) ، كأدل، ( {وأنهاء)."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212202260

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں