بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

انایہ نام رکھنا کیسا ہے؟


سوال

میری بیٹی کا نام انایہ صدیقی ہے اور اب اس کی عمر 9سال بھی ہوگئی ہے لیکن مجھے ابھی پتا چلا ہے کہ اس نام کے کوئی معنی نہیں ہے اور نام کا  شخصیت پر اثر ہوتا ہےکیا مجھے اپنی بیٹی کا نام چینج کر دینا چاہئے؟اور نام کے ساتھ باپ کا نام لگایا جا سکتا ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں انایہ ’’الف‘‘ کے ساتھ  لفظِ  عربی  لغت کی کتابوں میں مذکور نہیں۔البتہ  "عنایہ" عربی زبان کا لفظ ہے، اور عربی لغت میں  یہ لفظ ’’ع‘‘ کے ساتھ  "عنایہ"  ہی ملتا ہے،  اور 'ع' کے نیچے زیر  اور 'ع' پر زبر کے ساتھ دونوں طرح یہ مستعمل ہے، "عنایہ " کےمعنی: توجہ، التفات، وغیرہ۔لہذا انایہ  نام کے بجائے والد کی طرف نسبت کرتے ہوئےاگر عنایہ صدیقی نام رکھنا چاہیں تو رکھ سکتے ہیں ۔  بصورتِ دیگر ازواجِ مطہرات و صحابیات رضی اللہ عنہن کے ناموں میں سے کوئی نام رکھنا زیادہ بہتر ہے۔ اچھے ناموں کی فہرست ہماری ویب سائٹ پر حروف تہجی کے اعتبار سے موجود ہے اس سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

نیز حدیث میں بچوں کا اچھا نام رکھنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے اور ایسے نام جن کے معنی خراب یا بدشگونی کی طرف مشیر ہوں رکھنے سے منع فرمایا گیا ہے، اور کسی نام کا معنیٰ خراب ہو، وہ مہمل لفظ ہو، یا بدشگونی کی طرف مشیر ہو تو اسے تبدیل کر دینا چاہیے۔

صحيح البخاری میں ہے:

"حدثنا ‌إبراهيم بن موسى: حدثنا ‌هشام: أن ‌ابن جريج أخبرهم قال: أخبرني ‌عبد الحميد بن جبير بن شيبة قال: جلست إلى ‌سعيد بن المسيب فحدثني «أن جده حزنا قدم على النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: ‌ما ‌اسمك؟ ‌قال: ‌اسمي ‌حزن، ‌قال: ‌بل ‌أنت ‌سهل ‌قال: ‌ما ‌أنا ‌بمغير اسما سمانيه أبي» قال ابن المسيب: فما زالت فينا الحزونة بعد."

(کتاب الادب،‌‌باب تحويل الاسم إلى اسم أحسن منه،ج:8،ص:43،ط:السلطانیۃ)

لسان العرب میں ہے:

"وعناه الأمر يعنيه ‌عناية وعنيا: أهمه."

(فصل العين المهملة،(15/ 104)، الناشر: دار صادر - بيروت)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144408100582

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں