بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

ایمازون سے کاروبار اور کمیشن کا حکم


سوال

ایمازون کے اندر ایک آپشن ہے،جس کا نام(Amazon affiliate)ہے،اس کا مطلب آسان الفاظ میں یہ ہے کہ یہ بالکل فری ہے،اس میں آپ مفت رجسٹریشن کر سکتے ہیں، پھر آپ جن اشیا کی مارکیٹنگ کرنا چاہتے ہیں انہیں اختیار کریں اور پھر اس کی تشہیر وترویج کرکے اس کا لنک لوگوں تک پہنچائیں، توجو شخص بھی آپ کے مخصوص لنک کے ذریعے ویب سائٹ تک پہنچ کر وہ چیز خریدے گا، تو آپ کو اس میں سے کمیشن ملے گا، یہ کمیشن اس چیز کی قیمت کا کچھ فیصدی حصہ ہوتا ہے،باقی یہ کمیشن بالکل متعین ہوتا ہے ہر چیز میں ایک مخصوص فیصدی کمیشن ہوتا ہے،تو کیا یہ ایسا کرنادرست ہے؟ اورکیا اس کی آمدنی جائز ہے؟ جس بھی پراڈکٹ کا لنک ہم آگے شیئر کریں گے اس کے ساتھ کچھ تصاویر اور ویڈیوز بھی ہوتی ہیں جن میں ساؤنڈ اور خواتین بھی ہوتی ہیں کیا اس صورت میں ہماری کمائی میں کوئی کراہت تو نہیں ہے؟

جواب

ایمازون ویب سائٹ پر فروخت ہونے والی جائز  اشیاء کی قیمتوں میں سے مخصوص تناسب کے عوض  تشہیری اور ترویجی مہم میں حصہ لینا جائز ہےاور اس پر فیصد کے اعتبار سے کمیشن مقرر کرکے کمیشن لینے میں کوئی مضائقہ نہیں،شرعاً یہ  کام دلالی کے حکم میں ہے،جس کی اجرت لینا جائز ہے۔

البتہ  یہ ضروری ہے کہ  اس میں شرعًا کوئی ایسا مانع نہ ہو جس کی وجہ سے اصلاً بیع ہی ناجائز ہوجائے جیسے مبیع کاحرام ہونا،لہذا صرف ان ہی مصنوعات کی تشہیر کی جائے جو اسلامی نقطہ نظر سے حلال ہو ں، جوچیزیں  شرعاًحرام ہیں ان کی تشہیر کرکے پیسہ کمانا جائز نہیں ہے۔اسی طرح جس کمپنی کی مصنوعات  کی  تشہیر کرنا ہو اس  کمپنی کی طرف سےمصنوعات کے حقیقی  اوصاف، قیمت  وغیرہ  واضح طور پر درج ہو۔ سامان نہ ملنے یا غبن ہوجانے کی صورت میں مصنوعات خریدنے کے لئےجمع کی گئی رقم کی  واپسی کی ضمانت دی گئی ہو۔

مزید یہ کہ آڈر کرنے کے بعد مقررہ تاریخ تک مصنوعات نہ ملنے پر یا زیادہ تاخیر ہونے کی صورت میں کسٹمر کو  آڈر کینسل کرنے کا بھی اختیارہو۔ نیز آن لائن تجارت کرنے والےایسے ادارے اور  افراد  بھی ہیں جن کے یہاں مصنوعات موجود نہیں ہوتیں، محض اشتہار ات ہوتے ہیں اس لئے اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ اس کمپنی کے پاس مصنوعات کا حقیقی وجود ہے۔

مذکورہ تفصیل کے بعد اگر ایمازون ایفلیٹ  مارکیٹنگ میں درج بالا شرائط کا مکمل لحاظ رکھا جاۓ تو شرعاً یہ کام اور اس سے حاصل شدہ کمائی جائز ہوگی ،بصورتِ  دیگر اگر ان شرائط میں سے کوئی شرط بھی نہ پائی جاۓ گی تو مذکورہ کام ناجائز ہوگا، صورتِ مسئولہ میں چوں کہ سوال میں ذکر کردہ تشہیر  غیر شرعی  امور مثلاً موسیقی اور خواتین وغیرہ کی تصویر اور ویڈیو پر مشتمل  ہے اس لیے مذکورہ طریقے سے کمائی کرنا شرعاً جائز نہیں ،ایسی صورت میں حاصل شدہ تمام آمدنی کو صدقہ کرنا لازم ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

    "وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية".

(قوله: فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري؛ لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا؛ لأنه لا وجه له. (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين."

(کتاب البیوع ج:4 ص: 560ط: سعید)

وفیہ ایضا:

"وشرط ‌المعقود ‌عليه ‌ستة: كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه، وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم."

(كتاب البيوع ج:4 ص: 505 ط: سعید)

الاختیار لتعلیل المختار میں ہے:

"والملك الخبيث ‌سبيله ‌التصدق به، ولو صرفه في حاجة نفسه جاز. ثم إن كان غنيا تصدق بمثله، وإن كان فقيرا لا يتصدق."

(كتاب  الغصب ج: 3 ص: 61 ط: دار الكتب العلمية)

فتاوٰی شامی میں ہے:

"والحاصل أنه إن علم ‌أرباب ‌الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه، وإن كان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولا يعلم أربابه ولا شيئا منه بعينه حل له حكما، والأحسن ديانة التنزه عنه۔۔۔۔۔۔ومفاده الحرمة وإن لم يعلم أربابه وينبغي تقييده بما إذا كان عين الحرام ليوافق ما نقلناه، إذ لو اختلط بحيث لا يتميز يملكه ملكا خبيثا، لكن لا يحل له التصرف فيه ما لم يؤد بدله."

(کتاب البیوع ، باب البیع الفاسدج: 5 ص: 99ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144502100855

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں